فهرس الكتاب
اس تربیت کا نتیجہ ابن حزم کی شخصیت پر یہ ہوا کہ ان کی ذہانت اور احساس دو چند ہو گئے،لیکن خواتین کے درمیان اوائل شباب کا زمانہ گزارنے کے باوجود عفت و عصمت کے لحاظ سے قابل رشک تھے۔خود لکھتے ہیں اور اللہ کو گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ بدکاری اور اس کے متعلقات سے اللہ نے انہیں ہمیشہ بچا کر رکھا [1] ۔اس کی وجہ ایک تو یہ تھی کہ ابتدا ہی سے ان کے والد نے انہیں تربیت کے لیے عبدالرحمٰن بن یزید (م410) کے مجلس سے منسلک کر دیا تھا جو بڑے عالم اور مربی شخصیت تھے۔"میرے مربی اور استاذ ابوعلی علم و عمل اور پرہیزگاری میں اپنی مثال آپ تھے،میں نے ان جیسا صالح شخص نہیں دیکھا۔اللہ نے ان کے وسیلے سے اچھے برے کی پہچان کروائی" [2]
بارہ سال کی عمر میں ابن حزم کے والد المظفر کے دربار میں اپنے بیٹے کو پہلی مرتبہ لے گئے۔یہاں انہوں نے دربار کا احوال دیکھا اور اشعار سنے اور تحسین کی،نتیجتاََ صاحب قصیدہ نے اشعار کی ایک نقل ان کے لیے بھجوا دی [3] ۔ یہ اشعار ابوالعلاء الصاعدی کے تھے جو المظفر کی مدح میں کہے گئے تھے۔بارہ سال ہی کی عمر میں ابن حزم اپنے پہلے جذباتی تجربے کا ذکر کرتے ہیں جو ایک سولہ سالہ ماہ رخ سے محبت کی صورت ظاہر ہوا۔دو سال تک ان کی کوشش رہی کہ عفیفہ کا التفات جیتنے میں کامیاب ہو سکیں لیکن آسیں تور نہ چڑھ سکیں اور یہ معصوم محبت د لگرفتگی کے جلو میں یادوں کا حصہ بن گئی [4] ۔
جلد ہی بے فکری کا زمانہ اختتام کو پہنچا۔اس کی دو وجوہات واضح ہیں۔اول یہ کہ سلطان محمد مہدی سریر آراے سلطنت ہوا اور طوائف الملوکی کا دور آغاز ہو گیا۔اس کے بعد ہشام المؤید نے تخت سنبھالا تو ابن حزم کا خاندان زیر عتاب آ گیا اور قید و بند،جلاوطنی اور جرمانوں کا سلسلہ چل نکلا [5] ۔دوسرا سانحہ پے درپے قریبی رشتوں کا دنیا سے اٹھ جانا تھا۔اولاََ قرطبہ میں طاعون سے 401ء میں ابوبکر بن حزم کی وفات ہوئی اور سال بھر بعدسختیوں اور تکالیف جھیلتے جھیلتے والد احمد بن سعید بھی چل بسے۔403ء میں ابن حزم کی زوجہ اول بھی داغ مفارقت دے گئیں۔ابن حزم کی عمر اس وقت بیس سال تھی:"اس وقت میری عمر بیس سال تھی اور میری مرحومہ بیوی کی عمر اس سے بھی کم تھی۔اس کی وفات کے بعد آٹھ مہینے تک میں نے اپنے کپڑے نہیں اتارے اور نہ میرے آنسو رکے،آنکھیں خشک ہو کر رہ گئیں!ابھی تک مجھے سکون نہیں آیا اور اگر اپنی ساری دولت دے کر اس کو بچا سکتا تو بھی بچاتا حتیٰ کہ اس کے لیے اپنے جسم کا کوئی حصہ قربان کرنا پڑتا تو بھی دریغ نہ کرتا۔میں اس کو کبھی نہیں بھول سک ااور جیسی محبت اس سے تھی اس کے بعد کسی سے کبھی نہ ہو بلکہ اس سے پہلے اوروں سے جو الفت تھی اس"
[2] طوق الحمامة،ص126
[3] بغیة الملتمس، ص279
[4] طوق الحمامة، ص144
[5] أیضًا،ص154