الصفحة 50 من 389

دمشق سے 1969ء میں شائع ہو چکا ہے۔ایک اور رسالہ"جز فی فضل العلم واھلہ"مفقود ہے [1] ۔اسی طرح"الاستجلاب"اور"الاستقصاء"بھی مفقود ہیں۔ [2]

تلامذہ

کسی بھی استاذ کی علمی خدمات میں اس کے تلامذہ کو شمار کیا جاتاہے۔ابن حزم کے شاگرد بہت زیادہ نہ ہو سکے جس کی وجوہات مندرجہ ذیل ہیں۔

اولًا: اندلس کے سیاسی حالات۔اندلس کا سرکاری مذہب،مذہب مالکی تھا۔ابن حزم نے جب ظاہری فقہ کی تائید کی اور عوام میں اسے ترویج کرنے کے لیے کوشاں ہوئے تو ان کی مالکی فقہاء کے ساتھ مخالفت پیدا ہوئے ہوئی جو مناظرہ سے آگے بڑھ کر دشمنی تک پہنچ گئی۔عوام کی اکثریت بھی مالکی تھی جس کی وجہ سے ان کی مخالفت بہت شدید ہوگئی۔فقہاء نے حکمرانوں کو بھی ابن حزم کے خلاف اکساے رکھا اور نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں ایک جگہ بیٹھ کو درس و تدریس کا موقع نہیں ملا۔انہیں قید بھی کیا گیا اور ان کی کتابوں کو بھی جلایا گیا۔

ثانیًا:لہجے کی سختی۔ابن حزم کا لہجہ مخالفین پر رد میں کافی سخت ہوا کرتا تھا۔اس کی وجوہات میں خود پر حد سے زیادہ اعتماد،غیرت دینی بھی تھی لیکن سب سے بڑی وجہ وہ آشوب حالات بنے جن سے وہ گزر رہے تھے۔ 'انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں 'کے مصداق حالات کی تلخی زبان و قلم سے چھلکنا ایک طبعی امر تھا۔ فقہاء و حکام کی طرف سے مخالفت کا جواب ہمیشہ ابن حزم نے ان سے زیادہ شدت سے دیا۔

ثالثًا:مصلحت سے گریز۔ابن حزم مداہنت سے تو ویسے ہی نا آشنا تھے،مصلحت بھی کبھی ان کے پاس سے نہیں گزری!ہر جگہ جو درست سمجھتے بلا خوف ملامت بیان کرتے اور کسی موقع و نتیجہ کی پروا نہ کرتے۔اس وجہ سے یہ منفی تاثر طلبائے علم میں بھی عام ہو گیا اور بہت کم طالب علم تحصیل علم کے لیے ان کی طرف متوجہ ہو سکے۔

یہ وہ اسباب تھے جن کی بنا پر ایسے تلامذہ کم ہی میسر ہوئے جو ان کے علم و فکر کو آگے چلاتے ۔کچھ اہم تلامذہ کا تزکرہ ذیل میں کیا جاتا ہے:

1.سالم بن احمد بن فتح (م461ھ)

2.شریح بن محمد بن شریحالمقری الاشبیلی (م539ھ)

کبار محدثین اور ادباءمیں شمار ہوتا تھا،حافظہ قوی تھا۔ابن حزم سے اجازتًا علم سیکھا۔ [3]

[2] ابن الأبار، التکملة،1؍474

[3] سیر أعلام النبلاء، ذهبی،20؍142

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت