الصفحة 51 من 389

3.صاعد بن احمد بن عبدالرحمٰن بن صاعد القرطبی (م462ھ)

ابن حزم سے روایت کی،اہل قرطبہ کے عارف و فقیہ تھے۔

4.عبداللہ بن محمد بن عبداللہ بن العربی الاشبیلی (م493ھ)

ان کے والدبھی ماہر زبان تھے۔ابن حزم سے ان کی تمام کتابیں باقاعدہ سماع کیں۔ان کی کتاب ''العواصم من القواصم''اورتفسیر احکام القرآن معروف ہیں۔ [1]

5.محمد بن ابی نصر فتوح بن عبداللہ الازدی الحمیدی (م488ھ)

ابن حزم کے جید تلامذہ میں سے تھے۔جذوۃ المقتبس کے مصنف ہیں۔

6.مصعب بن علی بن احمد بن سعید بن حزم۔

ابن حزم کے صاحبزاے تھے۔ [2]

7.عبداللہ بن محمد الصابونی (م478ھ) [3]

8.ابومروان عبدالملک بن زیادۃ اللہ السعدی (457ھ)

خانوادہ اہل بیت سے تعلق تھا۔ابن حزم سے سماع حدیچ کے بعد بغداد اور شام کا سفر کیا جہاں ظاہری مذہب ترک کر دیا ۔ [4]

9.حسین بن عبدالرحیم البھرانی (م۔ن) [5]

10.عمر بن حیان بن خلف (474ھ)

الملقب بہ ابن المؤرخ،محدث و فقیہ تھے۔ [6]

فکری خدمات

ابن حزم اولًا مالکی مذہب کے پیرو تھے لیکن بعد میں ظاہری مذہب اختیار کیا اور اس مذہب کے بانی داؤدبن علی الظاہری (م270ھ) سے زیادہ معروف ہوئے۔ظاہر سے ابن حزم کی مراد خفا یعنی تاویل سے گریز کرتے ہوئے ایسے معانی کو

[2] فهرسة ابن خیر (ت:إبراهیم الأبیاری) ،2؍456اقاہرہ،1989ء،ابن خیر

[3] ترتیب المدارك و تقریب المسالك، قاضی عیاض،ص277

[4] ابن بشکوال، الصلة،2؍614

[5] ابن البار، التکملة،1؍274

[6] بغیة المرتاد، ص330

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت