الصفحة 57 من 389

بِقَوْلِهِمْ: بَذْلُ الْمَجْهُودِ لِنَيْلِ الْمَقْصُودِوَمَعْنَى اسْتِفْرَاغِ الْوُسْعِ بَذْلُ تَمَامِ الطَّاقَةِ بِحَيْثُ يَحُسُّ مِنْ نَفْسِهِ الْعَجْزَ عَنْ الْمَزِيدِ عَلَيْهِ فَخَرَجَ اسْتِفْرَاغُ غَيْرِ الْفَقِيهِ وُسْعَهُ فِي مَعْرِفَةِ حُكْمٍ شَرْعِيٍّ فَبَذْلُ الْفَقِيهِ وُسْعَهُ فِي مَعْرِفَةِ حُكْمٍ شَرْعِيٍّ قَطْعِيٍّ، أَوْ فِي الظَّنِّ بِحُكْمٍ غَيْرِ شَرْعِيٍّ لَيْسَ بِاجْتِهَادٍ." [1] "

''اصطلاح میں فقیہ اپنی تمام طاقت شرعی حکم کے سلسلہ میں ظن غالب تک پہنچنے میں صرف کر دینا (یہی مفہوم ہے) اصولین کے قول بذل المجھود نیل المقصود کا اور استفراغ الوسعۃ کا معنی ہے اپنی تمام تر طاقت اس طرح خرچ کر دینا کہ یہ احساس بیدار ہو جائے کہ اس سے زیادہ کاوش سے عاجز ہوں۔ اس تعریف سے غیر فقیہ کی شرعی حکم کو معلوم کرنے کے لیے کی گئی کاوش بحث سے خارج ہو جاتی ہے، ایسے ہی فقیہ کی قطعی اور غیر شرعی احکام میں کی گئی کاوش بھی اجتہاد سے خارج ہے۔''

ابن ہمام حنفی (متوفی861ھ) رحمہ اللہ نے اجتہاد کے حوالے سے اس کو ایک حکمِ ظنی بتلایا ہے کیونکہ فقیہ کی کوشش و سعی اس کو مقصود حقیقی تک پہنچا بھی سکتی ہے اور اس میں غلطی کا امکان بھی برابر موجود ہے۔

"واصطلاحا ذلك من الفقیه في تحصیل حکم شرعی ظنی." [2]

اصطلاحا ایک شرعی ظنی حکم کے حصول کے لیے فقیہ کی کوشش کو اجتہاد کہا جاتا ہے۔

اجتہاد کے سلسلے میں متاخرینِ حنفیہ میں حضرت شاہ ولی اللہ (متوفی ۱۱۷۲ھ) کا کلام قابلِ توجہ ہے جن کو آخری زمانے کے بڑے علماء میں شمار کیا جاتا ہے شاہ صاحب بیان کرتے ہیں:

"الإجتهاد على مَا يفهم من كَلَام الْعلمَاء استفراغ الْجهد فِي إِدْرَاك الْأَحْكَام الشَّرْعِيَّة الفرعية من أدلتها التفصيلية الراجعة كلياتها إِلَى أَرْبَعَة أَقسَام الْكتاب وَالسّنة وَالْإِجْمَاع وَالْقِيَاس وَيفهم من هَذَا أَنه أَعم من أَن يكون استفراغا فِي إِدْرَاك حكم مَا سبق التَّكَلُّم فِيهِ من الْعلمَاء السَّابِقين أَو لَا وافقهم فِي ذَلِك أَو خَالف وَمن أَن يكون ذَلِك بإعانة الْبَعْض فِي التَّنْبِيه على صور الْمسَائِل والتنبيه على مآخذ الْأَحْكَام من الْأَدِلَّة التفصيلية أَو بِغَيْر إِعَانَة مِنْهُ فَمَا يظنّ فِيمَن كَانَ مُوَافقا لشيخه فِي أَكثر الْمسَائِل لكنه يعرف لكل حكم دَلِيلا ويطمئن قلبه بذلك الدَّلِيل وَهُوَ على بَصِيرَة من أمره أَنه لَيْسَ بمجتهد ظن فَاسد"

[2] التقریر والتحریر ۳ ؍ ۲۹۱

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت