الصفحة 58 من 389

وَكَذَلِكَ مَا يظنّ من أَن الْمُجْتَهد لَا يُوجد فِي هَذِه الْأَزْمِنَة اعْتِمَادًا على الظَّن الأول بِنَاء على فَاسد." [1] "

''علماء کے کلام سےاجتہاد کا جومفہوم مجھ پر عیاں ہوا ہے وہ یہ ہے کہ شریعت کے فرعی احکام کو ان کے تفصیلی اور جزئی دلائل کے ذریعہ معلوم کی کوشش کرنا ،جوچاربنیادی مآخذ قرآن، سنت، اجماع اورقیاس کے ذریعے معلوم ہوں،اجتہاد ہے۔ اس تعریف سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ اجتہاد ان مسائل کے بارے میں عام ہے جن پراہل علم گفتگو فرماچکے ہوں یا نہ کی ہو ، یا وہ کاوش اسی نتیجے تک پہنچائے جس تک اہل علم پہلے ہی پہنچ چکے ہیں یا پھر اس کے مخالف نتیجہ نکلے۔ اسی طرح یہ بھی اجتہاد ہے کہ آپ مسائل کی وضاحت کے لیے دیگر اہل علم کی معاونت حاصل کریں یا اس کی معاونت کے بغیر ہی کدوکاوش کریں۔ ایسے ہی وہ شخص جس کی آراء بیش تر مسائل میں اپنے شیخ کے موافق ہی ہیں اور وہ اس کی دلیل سے علی وجہ البصیرت وہ مطمئن ہے ، ایسے شخص کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ مجتہد نہیں ہے یہ ایک گمان فاسد ہے۔ ایسے ہی کوئی شخص یہ خیال کرے کہ اس دور میں کوئی مجتہد نہیں ہے تو یہ بھی ایک غلط خیال ہے۔''

حضرت شاہ ولی اللہ کی مذکورہ تعریف سے فکر و نظر کے سامنے یہ واضح ہوتاہے کہ کسی بھی شخص کی ایسی تمام کاوشیں جو مآخذ شریعت سے فرعی مسائل کو ضروری دلائل کے ذریعہ معلوم کرنے کے لیے کی جائیں وہ سب کی سب اجتہاد کے دائرہ میں آتی ہیں۔ حتی کہ ایک ایسا عالم جو اپنے آپ کو کسی خاص فقہی مذہب کی آراء کا پابند خیال کرتا ہے اور وہ مذہب کے دلائل میں غور و فکر کرتا ہے تو اس کا یہ عمل بھی اجتہاد ہو گا ۔ گویا شریعت کے احکام کے اخذ و استنباط کا کام ان دلائل کی روشنی میں کیا جائے جو شریعت نے بیان کر دئیے ہیں تو وہ بھی اجتہاد ہے اور یہ ایک اجتہاد کا انتہائی وسیع مفہوم ہے جو دیگر اہل علم کی عبارات میں نہیں ملتا۔

شوافع کے ہاں اجتہاد کا مفہوم

شوافع کے ہاں اجتہاد کی مختصرا اور تفصیلی تعریفیں ملتی ہیں۔ مختصر تعریف قاضی بیضاوی (متوفی ۶۸۵ھ) نے ان الفاظ میں کی ہے:

"هواستفراغ الجهد في درك الأحکام الشرعیة." [2]

شرعی احکام کے ادراک کی خاطر اپنی سعی و جہد خرچ کرنے کا نام اجتہاد ہے۔

اجتہاد کی بابت تفصیلی کلام دیکھا جائے تو خود امام شافعی الرسالہ میں اجتہاد کا مفہوم متعین کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

امام شافعی رحمہ اللہ (متوفی ۲۰۴ھ) اجتہاد کی تعریف میں کچھ اس طرح تحریر فرماتے ہیں:

[2] منھاج الاصول ،۴؍ ۵۲۴

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت