الصفحة 59 من 389

"قال: فما القياس؟ أهو الاجتهاد؟ أم هما مفترقان؟قلت: هما اسمان لمعنىً واحد.قال: فما جِماعهما؟قلت: كل ما نزل بمسلم فقيه حكم لازم، أو على سبيل الحقِّ فيه دلالةٌ موجودة، وعليه إذا كان فيه بعينه حكمٌ: اتباعُه، وإذا لم يكن فيه بعينه طُلِب الدلالة على سبيل الحق فيه بالاجتهاد. والاجتهادُ القياسُ." [1]

''امام شافعی رحمہ اللہ سے مسائل پوچھتے ہیں کہ قیاس کیا ہے ؟ کیا یہ اجتہاد ہی ہے یا ان میں فرق ہے وہ کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ یہ ایک ہی چیز کے دو نام ہیں تو طالب علم نے کہا ان کے جمع ہونے کی شکل کیا ہے؟ (فرماتے ہیں) کسی بھی صاحب شعور مسلمان کے لیے جو کچھ نازل ہوتا ہے اس کی صورتیں یہ ہیں کہ یا تو وہ ایک لازمی سمجھنے آنے والا حکم ہے یا درست طریقہ پر استدلال کے ذریعے سمجھ آتا ہے،سو جب بعینہ حکم سمجھ آرہا ہو تو اتباع ضروری اور جب بطریق استدلال حکم کو جاننے کی سعی وکاوش کی جائے تو وہ اجتہاد ہے اور اجتہاد ہی قیاس ہے۔''

معروف شافعی اصولی سیف الدین علی بن ابی علی الآمدی (متوفی ۶۳۱ھ) اجتہاد کی تعریف میں کچھ اس طرح رقم فرماتے ہیں:

"استفراغ الوسع في طلب الظن بشئ من الأحکام الشرعیة على وجه بحسن من النفس العجز عن المزیه فیه." [2]

''شرعی احکام میں ظن غالب تک پہنچنے کے لیے اس قدر محنت اور کوشش صرف کرنا کہ اس کے بعد انسان عاجز ہو جائے۔''

مذکورہ تعریف میں دو باتیں بے حد خوبصورت ہیں۔

اول: شرعی مسائل میں مقصود یقین تک پہنچنا نہیں بلکہ گمانِ غالب کو پانا ہے۔ یہ اس لیے کیونکہ یہ انسان کی استطاعت ہے اور اللہ کسی کو اس کی استطاعت سے زیادہ مکلف نہیں کرتا۔ دوسری بات یہ کہ حقیقی یقینی بات کا علم اللہ ہی کو ہے اور وہ اس دنیا میں نہیں کھل سکتا، اس لیے گمانِ غالب ہی وہ انتہا ہے جہاں تک پہنچنا اجتہاد کے ذریعے عملاََ ممکن ہے۔

دوم: جہد و کوشش کی حد یہ کہ پورے خلوص سےاتنی کوشش کرنا کہ انسان عاجز آجائے۔

امام زرکشی رحمہ اللہ (متوفی ۷۹۱ھ) نے اجتہاد کو عین قیاس قرار دیا ہے اور اس موقف کو امام شافعی کی طرف منسوب کیا ہے۔

"وَحَكَى صَاحِبُ"الْكِبْرِيتِ الْأَحْمَرِ"عَنْ بَعْضِهِمْ أَنَّ الْقِيَاسَ وَالِاجْتِهَادَ وَاحِدٌ،"

[2] الاحکام فی أصول الأحکام ،۴؍ ۱۶۹

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت