الصفحة 61 من 389

مالکیہ کے ہاں اجتہاد کامفہوم

مالکیہ میں محمد بن عبداللہ العربی المعروف بابن العربی (متوفی ۵۴۳ھ) [1] نے اجتہاد کا اصطلاحی مفہوم یوں بیان کیا ہے:

"وهی بذل الجهد واستفاد الوسع في طلب الصواب، افتعال من الجهد." [2]

''درست شرعی حکم کومعلوم کرنے کے لیے اپنی کاوش کو خرچ کرنا اور اپنی مکمل صلاحیت سےاستفادہ کرنے کانام اجتہاد ہے۔''

ابوالولید محمد بن احمدالباجی ( متوفی ۵۹۵ھ) کی تعریف کے مطابق:

"أما الاجتهاد فهو بذل المجتهد وسعه قي الطلب بالآلات التي تشترط فيه." [3]

'' اجتہاد مجتہد کا اپنی صلاحیت کو شرعی حکم کے حصول کے لیے ان آلالات کے ذریعہ خرچ کرنا جنھیں اجتہاد کے شرط ٹھہرایا گیا ہے۔''

یہاں علامہ الباجی نے اجتہاد کو ان آلات کے ساتھ مشروط کیا ہے جو اس کے لیے مختص کر دیے گئے ہیں۔ ابوعمروعثمان بن عمر بن ابی بکر (متوفی ۶۴۶ھ ) حکم اجتہادی کو ظنی بتلاتے ہیں:

"وفي الاصطلاح استفراغ الفقیه الوسع لتحصیل ظن بحکم شرعی." [4]

''اصطلاح میں فقیہ کاشرعی حکم کے بارے میں ظن غالب حاصل کرنے کے لیے سعی و جہد کرنا اجتہاد کہلاتا ہے۔''

حنابلہ کے ہاں اجتہاد کا مفہوم

شمس الدین محمد بن مفلح (متوفی ۷۶۳ھ) اجتہاد کی تعریف کے بارے میں فرماتے ہیں:

"استفراغ الفقیه وسعه لدرك حکم شرعی." [5]

''شرعی حکم کے ادراک میں فقیہ کا اپنی تمام تر صلاحیت کھپا دینے کو اجتہاد کہتے ہیں۔''

علامہ تقی الدین محمد بن احمد ( متوفی ۹۷۲ھ) اجتہاد کی تعریف میں رقم طراز ہیں:

[2] أصول الفقہ لابن العربی ،ص:۷۸

[3] الضروری فی أصول الفقہ ، ص:۱۳۷

[4] منتھی الوصول ،ص:۲۰۹

[5] أصول الفقہ لابن المفلح ، ۴؍ ۱۴۶۹

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت