فهرس الكتاب

الصفحة 116 من 864

6۔ مسیح علیہ السلام کو رسالت و نبوت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تقریبًا پانچ چھ سو سال پہلے ملی ہے۔قرآنِ مجید میں ہے: { قَالُوْا کَیْفَ نُکَلِّمُ مَنْ کَانَ فِی الْمَھْدِ صَبِیًّا ط قَالَ إِنِّیْ عَبْدُ ا للّٰه ط} [مریم:۲۹۔۳۰] ['' سب کہنے لگے کہ لو بھلا ہم گود کے بچے سے باتیں کیسے کریں ؟ بچہ بول اٹھا کہ میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں ۔'' ] الایۃ۔ نیز قرآنِ مجید میں ہے: { وَإِذْ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیٓ إِسْرَائِیْلَ إِنِّیْ رَسُولُ ا للّٰه إِلَیْکُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرَاۃِ ، وَمُبَشِّرًا م بِرَسُولٍ یَّأْتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُہٗ أَحْمَدُط} [الصّف:۶] ['' اور جب کہا مریم کے بیٹے عیسیٰ نے اے بنی اسرائیل! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں ۔ مجھ سے پہلے کی کتاب تورات کی میں تصدیق کرنے والا ہوں اور اپنے بعد آنے والے ایک رسول کی میں تمہیں خوشخبری سنانے والا ہوں ، جن کا نام احمد ہے۔ '' ] الآیۃ۔ تو مسیح علیہ السلام نزول فرمائیں گے تو اس وقت بھی آخری نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہوں گے، کیونکہ مسیح علیہ السلام فرمارہے ہیں: {وَمُبَشِّرًا م بِرَسُوْلٍ یَّأْتِیْ مِنْ م بَعْدِی اسْمُہٗ أَحْمَدُ ط} تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نئے سرے سے کسی نبی و رسول کی بعثت کی تو کوئی ضرورت نہیں ۔ ہاں ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پہلے نبی و رسول مسیح علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید و تصدیق کے لیے اور فساد و فتنہ کی سرکوبی کی خاطر نازل کرنے کی ضرورت ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے: (( لَیُوشِکَنَّ اَنْ یَنْزِلَ فِیْکُمُ ابْنُ مَرْیَمَ حَکَمًا عَدْلًا۔ ) ) (الحدیث) [1] [ '' عنقریب اتریں گے تم میں ابن مریم حاکم منصف۔'' ]

7۔اس کا جواب نمبر: (۶) میں گزر چکا ہے۔ دیکھئے: (( إِنَّہٗ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ۔ ) ) [2] ['' میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔''] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے اور (( لَیُوشِکَنَّ اَنْ یَنْزِلَ فِیْکُمُ ابْنُ مَرْیَمَ۔ ) )بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی فرمان ہے دونوں میں کوئی منافاۃ نہیں ، کیونکہ مسیح علیہ السلام نے فرمایا ہے: { وَمُبَشِّرًا م بِرَسُوْلٍ یَّأْتِیْ مِنْ م بَعْدِی اسْمُہٗ أَحْمَدُ ط} تو: (( إِنَّہٗ لاَ نَبِیَّ بَعْدِی۔ ) )کا معنی و مفہوم مسیح علیہ السلام نے {وَمُبَشِّرًا م بِرَسُوْلٍ یَّأْتِیْ مِنْ م بَعْدِی اسْمُہٗ أَحْمَدُ ط} فرماکر بیان کردیا ہے ان کے اس بیان کے بعد کسی مزید تشریح کی ضرورت نہیں ۔

8۔نعمتوں میں سے ہے۔

[2] بخاری ؍ کتاب الانبیاء ؍ باب ما ذکر عن بنی اسرائیل ، مسلم ؍ کتاب الامارۃ ؍ باب الامر بالوفاء ببیعۃ الخلفاء

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت