فهرس الكتاب

الصفحة 617 من 864

میں آتا ہے:

(( نہی رسول اللّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم عن بیع الحصاۃ وبیع الغرر ) ) [1]

''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری (پانسے مارنے) کی بیع سے اور دھوکے کی خریدوفروخت سے منع فرمایا۔''

یعنی جس بیع میں سود ا بظاہر بہت اعلیٰ دکھایا جا رہا ہو لیکن حقیقت میں وہ ایسا نہ ہو یا طریقہ فروخت ایسا بتایا جا رہا ہو کہ اس سے قیمت بہت کم پڑنے کا دعویٰ ہو لیکن عملًا کئی سو گنا سے بھی زیادہ قیمت وصول کی جا رہی ہو تو یہ صاف بیع الغرر ہے۔پھر مسلمانوں خصوصًا اس کمپنی میں شامل دینداروں کو تو ایسی ٹوتھ پیسٹیں وغیرہ خریدنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔انہیں تو سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق عام مسواک کو ہی کافی سمجھنا چاہیے جسے طبی طور پر سب ڈاکٹروں نے ٹوتھ پیسٹ سے بہتر چیز قرار دیا ہے چہ جائیکہ وہ اتنی مہنگی ٹوتھ پیسٹیں خرید کر ان کمپنیوں کے ہاتھوں لٹتے پھریں اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیتے پھریں ۔ العیاذ باللّٰه ۔

جماعت اسلامی کے شیخ الحدیث

مولانا عبدالمالک کابزناس بارے استفسار کا جواب

محترمی ومکرمی جناب عاشق علی خان صاحب قیم جماعت اسلامی ضلع ابن قاسم کراچی

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

فیکس کے ذریعے جناب کا استفسار ملا ،جواب درج ذیل ہے:

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت