فهرس الكتاب
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
ج: اگر کثرت و جمہوریت کو قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و حدیث پر مقدم سمجھا جائے تو یہ باتیں درست ہیں ۔ ۵ ؍ ۱ ؍ ۱۴۲۴ھ
س: ہمارے کچھ بھائی کہتے ہیں کہ ہم جمہوریت کے ذریعے اسلام لائیں گے اور کچھ کفر کہتے ہیں آپ اس کی وضاحت فرمائیں ۔ (عصمت اللہ حافظ آباد روڈ ، گوجرانوالہ)
ج: جس جمہوریت سے قرآن مجید کی کسی آیت یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث ثابتہ سے کسی حدیث کا ردّ ہو وہ جموریت کفر ہے۔
س: علم غیب کی تعریف کیا ہے؟ اور اس تعریف کو قرآن و سنت کے دلائل سے ثابت فرمائیں اور اس کا کیا مطلب ہے: {عٰلِمُ الْغَیْبِ فَـلَا یُظْھِرُ عَلیٰ غَیْبِہٖ اَحدًاo اِلاَّ مَنِ ارْتَضیٰ مِنْ رَّسُوْلٍالخ} [سورۂ جن] کیا اس سے رسول کے لیے علم غیب ثابت ہوتا ہے ؟ ورنہ اس کا جواب دیں ؟ (محمد شیخ یٰسین)
ج: علم غیب ہر چیز کو جاننے کا نام ہے۔ سورۂ لقمان کے آخر میں بیان شدہ پانچ چیزیں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( فِیْ خَمْس لَا یَعْلَمُھُنَّ اِلاَّ اللّٰہُ [1] ) ) [پانچ باتیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَعِنْدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُھَآ اِلاَّ ھُوَ} [الأنعام:۵۹] [غیب کی کنجیاں اللہ ہی کے پاس ہیں جنہیں بجز اس کے اور کوئی نہیں جانتا۔] خضر علیہ السلام نے فرمایا: ''کل مخلوقات کا علم اللہ تعالیٰ کے علم کی بنسبت اتنا ہے جتنا چڑیا کی چونچ میں قطرہ سمندر کی بنسبت۔'' [2] سورۂ جن والی آیت سے مراد انبیاء و رسول علیہم السلام پر نازل شدہ وحی ہے جیسا کہ اس کے سیاق ، سباق اور لحاق سے واضح ہے۔ ۱۴؍۴؍۱۴۲۳ھ
[2] تفسیر ابن کثیر۔ سورۂ کھف