فهرس الكتاب

الصفحة 224 من 864

صبح و شام اور ان لوگوں سے نہ ہوجاؤ جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ۔ ''] تو جہاں اور جن کے لیے ذکر جہرًا ثابت ہے وہاں وہ ذکر جہرًا کریں گے باقی ہر جگہ تمام لوگ ذکر سرًا کریں گے تو امام کا تکبیر کہنا ثابت ہے۔ اس لیے امام تکبیر جہرًا کہے گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (( وَإِذْ اکَبَّرَ فَکَبِّرُوْا ) )اور مقتدی کاجہرًا تکبیر کہنا ثابت نہیں ۔ لہٰذا وہ آیت: {وَدُوْنَ الْجَھْرِ مِنَ الْقَوْلِ} پر عمل پیرا ہوتے ہوئے سرًا تکبیر کہے گا۔

(۹) ہاں ! اس کی نماز مکمل ہو گئی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (( وَتَحْرِیْمُھَا التَّکْبِیْرُ وَتَحْلِیْلُھَا التَّسْلِیْمُ ) )نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بسا اوقات ایک ہی سلام کہہ لیا کرتے تھے جیسا کہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں آیا ہے۔ [ارواء الغلیل ، حدیث:۳۲۷ کے تحت اس کی تخریج ہے۔ ] مزید تفصیل کے لیے ''صفۃ صلاۃ النبی صلی ا للّٰه علیہ وسلم '' کا مطالعہ فرمائیں ۔ ۵؍۱؍۱۴۲۴ھ

س: اگر امام تیسری رکعت میں ہے تو اوپر سے کوئی آدمی آتا ہے ، جماعت میں شامل ہوتا ہے تو اس کی وہ پہلی رکعت ہو گی یا تیسری ؟ (ذوہیب امجد فاروقی، ضلع چکوال)

ج: امام تیسری رکعت میں ہے کوئی آدمی آ کر نماز باجماعت میں شامل ہوتا ہے تو بعد میں شامل ہونے والے اس مقتدی کی وہ رکعت پہلی ہو گی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (( مَا اَدْرَکْتُمْ فَصَلُّوْا ، وَمَا فَاتَکُمْ فَاَتِمُّوْا ) ) [1] [ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کی اقامت ہو جائے تو تم اس کی طرف بھاگ کر مت آؤ بلکہ چل کر سکون و وقار کے ساتھ آؤ، پس جتنی نماز کو پالو پڑھ لو اور جو فوت ہو جائے اسے پورا کر لو۔ ابو داؤد نے زہری کے پانچ شاگردوں کی یونس کے علاوہ روایت میں فَاَتِمُّوْا کا لفظ آنا بیان کیا اور زہری سے فقط ابن عیینہ کی روایت میں فَاْقضُوْا کا لفظ آنا بتایا ہے ، پھر دو روایتوں سے مزید اس کی تائید کی ہے جو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے آئی ہیں کہ اَ تِمُّوْا کا لفظ ہے ، پھر ابن مسعود اور ابو قتادہ اور انس رضی اللہ عنہم کی روایات میں بھی یہی لفظ ثابت کیا ہے۔ ] بعض روایات میں وارد لفظ (( فَاقْضُوْا ) )بھی أَتِمُّوْا کے معنی میں ہے ۔ قرآن مجید میں ہے: {فَاِذَا قَضَیْتَ الصَّلَاۃَ} پھر دیکھیں تکبیر تحریمہ کے بعد پہلی رکعت آتی ہے ۔ إلا بدلیل ، ولا دلیْل ھھنا

حدیث کے لفظ فَاَ تِمُّوْا میں یہ بتایا گیا ہے کہ مسبوق کو امام کے ساتھ جو نماز ملی ہے وہ اس کی پہلی رکعت ہے کیونکہ اتمام کا لفظ باقی کو پورا کرنے پر بولا جاتا ہے۔ جناب علی، ابو الدرداء رضی اللہ عنہما ، شافعی ، احمد اور ابو حنیفہ رحمہم اللہ اجمعین کا یہی مذہب ہے۔ ] ۲۸؍۱۰؍۱۴۲۳ھ

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت