نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں تین بار پڑھتے تھے: '' سُبْحَانَ ا للّٰه وَبِحَمْدِہٖ '' اللہ پاک ہے، اس کی تعریف کے ساتھ۔ [1]
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے عمر بن عبدالعزیز کی نماز جس قدر مشابہت و مطابقت رکھتی تھی، کسی دوسرے کی نہیں ۔ ہم نے ان کے (عمر بن عبدالعزیز کے) رکوع اور سجود کا اندازہ لگایا تو وہ دونوں دس تسبیحات کے برابر تھے۔ [نسائی ، ابو داود]
حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں پڑھتے:''سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی ''میرا بلند پروردگار پاک ہے۔ [2]
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدے میں یہ کہتے تھے: '' سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ رَبُّ الْمَلَآئِکَۃِ وَالرُّوْحِ '' [3] فرشتوں اور روح کا رب نہایت پاک ہے۔ ۱۱ ؍ ۴ ؍ ۱۴۲۴ھ
س: (( اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاھْدِنِیْ وَعَافِنِیْ وَارْزُقْنِی ) ) [4] [ابو داؤد ، ترمذی ] اس کی سند حبیب بن ابی ثابت کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے۔ تاہم اسے حاکم و ذہبی نے صحیح کہا ہے۔ [بحوالہ صلوٰۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم صادق سیالکوٹی رحمۃ اللّٰہ] تخریج حافظ زبیر علی زئی ۔ کیا یہ روایت صحیح ہے، اگر صحیح نہیں تو پھر کون سی دعاء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں جلسے کی حالت میں پڑھتے تھے؟ (محمد یونس شاکر ، نوشہرہ ورکاں )
ج: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو سجدوں کے درمیان (( رَبِّ اغْفِرْلِیْ ، رَبِّ اغْفِرْلِیْ ) )پڑھتے۔ [5] ۲۰ ؍ ۷ ؍ ۱۴۲۱ھ
س: نماز میں دعا بین السجدتین کی اسنادی حیثیت کیا ہے؟
(( اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاجْبُرْنِیْ وَارْفَعْنِیْ وَعَافِنِیْ وَاھْدِنِیْ وَارْزُقْنِیْ ) )
'' اے اللہ! مجھے بخش دے ، مجھ پر رحم فرما اور میرے نقصان پورے کر اور مجھے بلندی عطا فرما، مجھے
[2] مسلم ؍ صلاۃ المسافرین ؍ باب استحباب تطویل القراء ۃ فی صلاۃ اللیل
[3] مسلم ؍ الصلاۃ ؍ باب ما یقال فی الرکوع والسجود
[4] ابو داؤد ؍ ابواب الرکوع والسجود ؍ باب ما یقول الرجل فی رکوعہ وسجودہ
[5] ابو داؤد ؍ الصلاۃ ؍ باب الدعاء بین السجدتین ، ترمذی ؍ الصلاۃ ؍ باب ما یقول بین السجدتین اسے حاکم ، ذہبی ، نووی اور شیخ البانی رحمہم اللہ اجمعین نے صحیح کہا ہے۔