فهرس الكتاب

الصفحة 288 من 864

ج: ہاں دونوں طرح درست ہے۔ قنوت وتر قبل از رکوع کی دلیل ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے۔ نسائی اور ابن ماجہ میں ہے: (( عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ أَنَّ رَسُوْلَ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم کَانَ یُوْتِرُ بِثَلاَثِ رَکْعَاتٍ وَیَقْنُتُ قَبْلَ الرُّکُوْعِ ) ) [1] [''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین وتر پڑھتے اور دعائِ قنوت رکوع سے پہلے پڑھتے تھے۔ ''] اور قنوت وتر بعد از رکوع کی دلیل ہے۔ حسن بن علی رضی اللہ عنہ والی حدیث چنانچہ مستدرک حاکم میں ہے: (( إِذَا رفعت رأسی ولم یبق إلا السجود ) )امام بیہقی نے اسی روایت کو بواسطہ حاکم اپنی سنن کبریٰ میں روایت فرمایا ہے۔ صاحب نیل الاوطار لکھتے ہیں: (( ففی بعض طرق الحدیث عند البیہقی التصریح بکونہ بعد الرکوع ، وقال: تفرد بذلک أبوبکر بن شیبۃ الحزامی ، وقد روی عنہ البخاری فی صحیحہ ، وذکرہ ابن حبان فی الثقات ، فلا یضر تفردہ ) ) [2]

اگر کوئی صاحب فرمائیں محدث دوران شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ إرواء الغلیل میں لکھتے ہیں: (( قولہ فی روایۃ الحاکم: إذا رفعت رأسی ولم یبق إلا السجود۔ فی ثبوتہ نظر کما سبق بیانہ فی آخر الحدیث(۴۲۶ ) ))

تو ان کی خدمت میں مؤدبانہ گزارش ہے کہ محدث دوران شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ ہی حدیث نمبر: ۴۲۶ کی تخریج و تشریح کے آخر میں فرماتے ہیں: (( ینبغی أن یتأمل قولہ فی ھذا الطریق: إذا رفعت رأسی ولم یبق إلا السجود۔ فقد رأیت فی الجزء الثانی من فوائد أبی بکر أحمد بن الحسین بن مہران الأصبھانی تخریج الحاکم لہ قال: ثنا محمد بن یونس المقری قال: ثنا الفضل بن محمد البیہقی الخ۔ قلت: فذکرہ بسندہ ولفظ ابن مندۃ وفیہ الزیادۃ ، وابن یونس المقری ترجمہ الخطیب فی تاریخہ(۳؍۴۴۶) ووثقہ ، ولھذا مالت نفسی إلی ترجیح ھذا اللفظ بعد ثبوت ھذہ المتابعۃ۔ واللّٰہ أعلم۔ ۱ھ ))

(( قلت: إن الشیخ ناصر الدین الألبانی رحمہ ا للّٰه تعالیٰ رحمۃ واسعۃ قد نسی فی قولہ: فی ثبوتہ نظر الخ۔ قولہ قبل: ولھذا مالت نفسی إلی ترجیح ھذا اللفظ بعد ثبوت ھذہ المتابعۃ۔ ولم نجد لہ عزما ، فسبحان من لا یضل ولا ینسی۔ واللّٰہُ أعلم ) )

اگر کوئی صاحب فرمائیں کہ محدث وقت شیخ البانی… رحمہ اللہ نے لکھا ہے: (( فإن قولہ: أن أقول إذا

[2] نیل الأوطار ؍ ابواب صلوٰۃ التطوع ؍ باب وقت صلاۃ الوتر والقراء ۃ فیھا والقنوت

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت