فهرس الكتاب

الصفحة 308 من 864

اوسماعہ من لفظ شیخہ فالحکم للراجح ولا یکون الحدیث حینئذ مضطر با وکذا امکن الجمع بحیث یمکن اَن یکون المتکلم معبر ا باللفظین فاکثر عن معنی واحد او یحمل کل منھما علی حالۃ لا تنافی الاخری شرح الشرح۔ ۱ھ (ص:۶۹) وفی شرح النخبۃ ایضا: فان خولف بارجح منہ لمزید ضبط او کثرۃ عدد او غیر ذالک من وجوہ الترجیحات فالراجح یقال لہ المحفوظ و مقابلہ وھو المرجوح یقال لہ الشاذ وھذا ھو المعتمد فی تعریف الشاذ بحسب الاصطلاح و ان وقعت المخالفۃ مع الضعف فالراجح یقال لہ المعروف و مقابلہ یقال لہ المنکر ۱ھ مقتصرًا ( ص:۴۲،۴۳) وفی شرح النخبۃ ایضًا۔ وان کانت المعارضۃ بمثلہ فلا یخلو اما ان یمکن الجمع بین مدلولیھما بغیر تعسف او لا فان امکن الجمع فھو النوع المسمی بمختلف الحدیث ۱ھ (ص:۴۷ ) ) )

''ترجمہ:ثالثًاحافظ ابن صلاح نے فرمایا: مضطرب حدیث وہ ہے جس میں روایت مختلف ہو جائے چنانچہ کوئی اسے ایک طرح روایت کرے اور کوئی دوسرے طریقہ پر جو پہلے کے مخالف ہو ۔ ہم اسے مضطرب کا نام صرف اس وقت دیں گے جب دونوں روایتیں (قوت میں ) برابر ہوں لیکن جب ان دونوں میں سے ایک کو ایسی ترجیح حاصل ہو جائے کہ دوسری اس کے بالمقابل نہ رکھی جا سکتی ہو اس وجہ سے کہ اس کا راوی حافظے میں زیادہ ہو یا جس سے روایت کر رہا ہے اس کی صحبت اسے زیادہ میسر رہی ہو یا اس کے علاوہ ترجیح کی صورتوں میں سے کوئی صورت موجود ہو تو راجح روایت کے حق میں فیصلہ ہو گا اور مضطرب نہیں کہا جائے گا اور نہ ہی اس کا حکم مضطرب والا ہو گا (علوم الحدیث ، ص:۸۴) اور تقریب کی شرح تدریب میں ہے: انیسویں قسم مضطرب ہے جو ایک ہی راوی سے دو یا زیادہ مرتبہ یا دو راویوں سے یا زیادہ راویوں سے ایسی مختلف وجوہ کے ساتھ روایت کی جائے جو ایک دوسرے کے قریب قریب ہوں ، ابن صلاح کی عبارت یہ ہے کہ وہ وجوہ ایک دوسری کے برابر ہوں اور ابن جماعہ کی عبارت یہ ہے کہ وہ ایک دوسری کے برابر کی مد مقابل ہوں ۔ اور ان وجوہ کے درمیان ترجیح دینے والی کوئی چیز موجود نہ ہو۔ اگر ان دو روایات یا زیادہ روایات میں سے کسی ایک کو ترجیح حاصل ہو جائے مثلًا اس کے راوی کے حافظہ کی وجہ سے یا مروی عنہ کے ساتھ اس کی صحبت کی وجہ سے یا ترجیح کے

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت