فهرس الكتاب

الصفحة 651 من 864

اور والدہ بالیقین ہے۔ بہن بھائی بھی ہیں ترکہ ۷۵۷۶۲۶ ہے ۔ ان کے حصے قرآن و سنت کے مطابق تقسیم فرما دیں ۔

ج:

محمود = اصل مسئلہ= ۲۴ ــــــ ترکہ=۷۵۷۶۲۶

از اصل از ترکہ

بیوی عطیہ =ثمن=(=۳ ۹۴۷۰۳ (

لڑکی تنزیلہ=نصف=(=۱۲ ۳۷۸۸۱۳

باپ عبدالغفار=سدس=(=۴+۱=۵ ۱۵۷۸۳۸ (

ماں بلقیس=سدس=(=۴ ۱۲۶۲۷۱

بہن بھائی=محجوب بحجب حرفان ×

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {فَإِنْ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَھُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ تُوْصُوْنَ بِھَآ أَوْدَیْنٍ} [النساء:۱۲] [''اگر تمہاری اولاد ہو تو پھر انہیں تمہارے ترکہ کا آٹھواں حصہ ملے گا اس وصیت کے بعد جو تم کر گئے ہو اور قرض کی ادائیگی کے بعد۔''] اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {وَإِنْ کَانَتْ وَاحِدَۃً فَلَھَا النِّصْفُ} [النساء:۱۱] ['' اور اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کے لیے آدھا ہے۔''] اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {وَلِأَبَوَیْہِ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنْھُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَکَ إِنْ کَانَ لَہٗ وَلَدٌ} [النساء:۱۱] ['' اور میت کے ماں باپ میں سے ہر ایک کے لیے اس کے چھوڑے ہوئے مال کا چھٹا حصہ ہے اگر اس ( میت) کی اولاد ہو۔''] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (( أَ لْحِقُوْا الْفَرَائِضَ بِأَھْلِھَا فَمَا بَقِیَ فَلِأَوْلیٰ رَجُلٍ ذَکَرٍ ) ) [1] [''وراثت مقررہ حصے داروں کو دو اور جو باقی بچے تو رشتہ میں میت کے جو مرد زیادہ قریب ہو اسے دے دو۔''] تقسیم ترکہ کی صورت مندرجہ بالا ہے۔ ۱۹؍۱؍۱۴۲۴ھ

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت