فهرس الكتاب

الصفحة 351 من 458

تعارض اور تصادم نہیں ہے۔ قرض مقروض کے ذمے واجب ہے لیکن زکوٰۃ مال میں واجب ہے، جو اسے ہر حال میں ادا کرنی ہوگی۔

زکوٰۃ میں تاخیر کرنےوالا گناہ گار ہے

سوال ۳۶۰: ایک شخص نے چار سال تک زکوٰۃ ادا نہیں کی، اس کے لیے کیا لازم ہے؟

جواب:یہ شخص زکوٰۃ ادا کرنے میں تاخیر کی وجہ سے گناہ گار ہے کیونکہ آدمی پر واجب ہے کہ وہ وجوب زکوٰۃ کے بعد فورًا زکوٰۃ ادا کرے اور اس میں تاخیر نہ کرے کیونکہ واجبات کے بارے میں اصول یہ ہے کہ انہیں فورًا ادا کیا جائے۔ اس شخص کو اس نافرمانی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے آگے توبہ کرنی چاہیے اور گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ فورًا ادا کرنی چاہیے۔ اس سے زکوٰۃ ساقط نہیں ہوگی بلکہ مذکورہ صورتحال میں اسے توبہ کرنی چاہئے اور فورًا زکوٰۃ ادا کرنی چاہیے تاکہ تاخیر کی وجہ سے وہ مزید گناہ گار نہ ہو۔

نصف سال چرنے والے جانوروں پر زکوٰۃ کا مسئلہ

سوال ۳۶۱: کیا ان مویشیوں میں بھی زکوٰۃ واجب ہے جو نصف سال تک گھاس چرتے ہوں؟

جواب:وہ مویشی جو پورا نصف سال گھاس چرتے رہے ہوں، ان میں زکوٰۃ نہیں ہے کیونکہ مویشیوں میں زکوٰۃ اس وقت واجب ہوتی ہے جب وہ ایک سال مکمل یا سال سے زائد عرصے تک گھاس چرتے رہے ہوں اور جو سال کا کچھ حصہ یا نصف سال تک چرتے رہے ہوں تو ان میں زکوٰۃ نہیں ہے الایہ کہ وہ تجارت کے لیے ہوں تو ان کے لیے سامان کی زکوٰۃ کا حکم ہوگا اور اگر وہ سامان تجارت ہیں، تو ہر سال ان کی قیمت کا اندازہ لگایا جائے گا اور پھر ان کی کل مالیت کی ڈھائی فی صد کے حساب سے زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔

کیا گھر میں موجود پھل دار درختوں کے پھل پر بھی زکوٰۃ ہے ؟

سوال ۳۶۲: میں نے تین سال پہلے ایک گھر خریدا تھا، جس میں بحمدللہ دو قسم کی کھجور کے تین پھل دار درخت ہیں جن میں بہت زیادہ پھل لگتا ہے۔ کیا مجھ پر ان کی زکوٰۃ واجب ہے۔ اگر جواب اثبات میں ہو، اور لوگوں کو ان مسائل کا علم نہیں ہے، تو میں اس بارے میں کئی سوالات پوچھوں گا۔ اولًایہ کہ مجھے یہ کیسے معلوم ہوگا کہ کھجوروں کا پھل نصاب کو پہنچ گیا ہے یا نہیں پہنچا؟ ثانیًا: پھلوں میںزکوٰۃ کا اندازہ کس طرح لگایا جائے گا؟ کیا ہر قسم کی کھجوروں کی الگ الگ زکوٰۃ ادا کی جائے گی یا ان کو آپس میں ملا کر سب کی اکٹھی زکوٰۃ ادا کی جائے گی؟ کیا یہ جائز ہے کہ میں زکوٰۃ نقدی کی صورت میں ادا کروں؟ گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ کے بارے میں کیا کروں؟

جواب:سائل نے جو ذکر کیا ہے کہ گھر میں کھجوروں کے ان درختوں کے بارے میں کیا حکم ہے جس کا بہت سے لوگوں کو علم نہیں، تو یہ صحیح ہے کہ بہت سے لوگوں کے گھروں میں سات یا دس یا دس سے کم و بیش کھجوروں کے درخت ہواکرتے ہیں جن کا پھل نصاب کو پہنچ گیا ہوتا ہے مگر وہ نہیں جانتے کہ ان میں زکوٰۃ بھی فرض ہے کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ زکوٰۃ صرف کھجوروں کے باغات کی صورت میں فرض ہوا کرتی ہے، حالانکہ زکوٰۃ تو کھجور کے درختوں کے پھل میں ہے، درخت خواہ باغ میں ہوں یا گھروں میں، لہٰذا کسی ایسے انسان کو لانا چاہیے جو پھلوں کے وزن کا اندازہ لگا سکتا ہو تاکہ وہ اندازہ لگا کر بتائے کہ یہ پھل نصاب کو پہنچا ہے یا نہیں؟ جب نصاب کے مطابق ہو تو پھر اس کی

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت