فهرس الكتاب

الصفحة 431 من 880

كتاب النكاحخواتین اور نکاح و شادی کے احکام و مسائل

سوال:ایک آدمی پہلے سے دیے گئے پیغام نکاح پر پیغام دیتا ہے،کیا یہ عمل جائز ہے؟ اور اس کا کیا حکم ہے؟

جواب:الحمدللہ،صحیح احادیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے،آپ نے فرمایا ہے کہ:

"کسی آدمی کے لیے حلال نہیں ہے کہ اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام دے یا اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرے۔" [1]

اس لیے ائمہ اربعہ اور دیگر سبھی کے نزدیک متفقہ طور پر یہ کام حرام ہے۔البتہ اگر اس صورت میں نکاح ہو جائے تو اس بارے میں دو رائے ہیں:ایک قول یہ ہے کہ ایسا نکاح باطل ہے اور یہ مروی ہے امام مالک رحمہ اللہ سے،اور ایک روایت امام احمد رحمہ اللہ سے بھی یہی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت