فهرس الكتاب
- 📄
- 📄
استطاعت کے تحت اسے خاموشی سے سن بھی رہا ہوتا ہے۔ [1] (صالح بن فوزان)
سوال:حدیث نبوی (لَا تُصَاحِبْ إِلا مُؤْمِنًا۔۔۔الخ) "ہمیشہ کسی مومن ہی کی صحبت اختیار کر اور تیرا کھانا کوئی متقی ہی کھائے۔"اس حدیث کا کیا مفہوم ہے؟ اور اس کے کیا حدود ہیں کہ میں کسی مسلمان کو اپنے گھر میں داخل نہ کروں اور اسے کھانا نہ کھلاؤں؟
جواب:اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسلمان کے لیے اس کا دستور زندگی واضح فرمایا ہے۔اس سے یہ ہرگز مراد نہیں ہے کہ کسی مسلمان کے لیے کسی صالح مومن کے علاوہ کسی کو کھانا کھلانا جائز نہیں ہے۔بلکہ مقصد یہ ہے کہ آپ کا اختلاط اور دلی میل جول ہونا اور کسی مناسبت سے کسی کو کھانا کھلانا خواہ وہ کافر ہو یا فاسق،دو الگ الگ باتیں ہیں۔ایسے لوگوں کو کھانا کھلانا یقینا جائز ہے لیکن دستور زندگی نہیں ہونا چاہیے ۔جیسے کہ دوسری حدیث میں ہے:
"مَنْ جَامَعَ الْمُشْرِكَ،فهو مِثْلُهُ"
"جو کسی مشرک کے ساتھ اشتراک و میل جول رکھے،وہ اس کی مانند ہو گا۔" [2]
ایک اور حدیث ہے:
"الْمُسْلِمُ وَالْمُشْرِكُ لَا تَرَاءَى نَارَاهُمَا"
"مسلمان اور مشرک کو ایک دوسرے کی آگ نظر نہیں آنی چاہییں۔" [3]
اس کے ساتھ ایک لازمی ادب یہ بھی ہے کہ اس کی آواز اپنی حد تک ہونی چاہیے۔اتنی اونچی آواز سے ٹیپ یاریڈیو لگالینا کہ ہمسائے اور ساتھ والے متاثر یااذیت محسوس کریں،جائز نہیں ہے۔الغرض قرآن مجید پڑھنے اور سننے کے لازمی آداب کا خیال رکھنا لازم ہے۔واللہ اعلم بالصواب۔
[2] سنن ابی داود،کتاب الادب،باب من یومر ان یجالس،حدیث:4832وسنن الترمذی،کتاب الزھد،باب صحبۃ المومن،حدیث:2305صحیح ابن حبان:2؍314،حدیث:554۔
[3] سنن ابی داود،کتاب الجھاد،باب فی الاقامۃ بارض الشرک،حدیث:2787والمعجم الکبیر للطبرانی:7؍251،حدیث:7023۔