شب کے بعد طلوعِ فجر سے پہلے مزدلفہ سے منیٰ کے لیے روانہ کردیا جائے، تاکہ لوگوں کے ازدحام اور بھیڑ سے پہلے ہی جمرہ عقبہ کو کنکری مار کر فارغ ہوجائیں ۔ ''
اس کے بعد موصوف نے دلیل کے طور پر متعدد احادیث ذکر کی ہیں ۔
خواتین کو حج یا عمرہ میں اپنے سروں کا حلق کرانا (یعنی منڈوانا) جائز نہیں ہے بلکہ بالوں کے اوپری حصہ سے صرف ایک انگلی کے برابر بال کاٹ لیں گی۔ علامہ ابن قدامہ المغنی (۵/ ۳۱۰) میں لکھتے ہیں ؛
'' خواتین کے حق میں قصر (یعنی بال چھوٹا کروانا) مشروع ہے، نہ کہ حلق، اس میں علماء کے مابین کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اس پر علامہ ابن المنذر نے اہل علم کا اجماع نقل کیا ہے، کیونکہ ان کے حق میں حلق (یعنی بال کا منڈوانا) ایک طرح سے مثلہ (اللہ کی بنائی ہوئی شکل و صورت کو مسخ کرنا) ہے۔ ''
سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعًا روایت ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( لَیْسَ عَلَی النِّسَائِ حَلْقٌ، إِنَّمَا عَلَی النِّسَائِ التَّقْصِیْرُ۔ ) ) [1]
'' خواتین پر حلق نہیں ہے، بلکہ ان پر تقصیر ہے۔ ''
اور سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
(( نَھَی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰہ عليه وسلم أَنْ تَحْلِقَ الْمَرْأَ ۃُ رَأْسَھَا۔ ) ) [2]
'' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کو حلق کرانے سے منع فرمایا ہے۔ ''
امام احمد رحمہ اللہ کا کہنا ہے عورت ہر چوٹی سے ایک انگلی کے پورے کے برابر بال کاٹ
[2] ترمذی، ابواب الحج، باب ما جاء فی کراھیۃ الحلق للنساء، رقم: ۹۱۴۔ نسائی، کتاب الزینۃ، باب النھی عن حلق المرأۃ رأسھا، رقم: ۵۰۵۲۔