فهرس الكتاب

الصفحة 144 من 155

علامہ ابن قدامہ المغنی میں لکھتے ہیں ؛ اگر دو عورتیں ہم جنسی کا عمل کرتی ہیں تو وہ دونوں زانی اور ملعون ہیں ۔ کیونکہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

(( إِذَا أَتَتِ الْمََرَأْۃُ الْمَرْأَۃَ فَھُمَا زَانِیَتَانِ۔ ) ) [1]

'' جب دو عورتیں ہم جنسی کا عمل کرتی ہیں تو وہ دونوں زنا کا ارتکاب کرنے والی ہوتی ہیں ۔ ''

ان دونوں پر تعزیری حد جاری کی جائے گی، اس لیے کہ یہ ایسا زنا ہے، جس کے بارے میں کوئی متعین حد ثابت نہیں ہے۔ [2]

نگاہوں کی حفاظت:

نگاہیں پست رکھنے کے سلسلے میں علامہ ابن القیم رحمہ اللہ اپنی کتاب الجواب الکافی میں تحریر کرتے ہیں:

'' نگاہیں فحش کاری کا پیش خیمہ اور جنسی شہوت بھڑکانے کا سبب بنتی ہیں ، چنانچہ نگاہوں کی حفاظت کی اصل بنیاد ہے، جس شخص نے اپنی نگاہیں آزاد چھوڑ دیں ، اس نے اپنے لیے ہلاکت کا سامان مہیا کیا۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے:

(( یَا عَلِيُّ لاَ تُتْبِعِ النَّظْرَۃَالنَّظْرَۃَ فَإِنَّ لَکَ الْأُوْلیٰ۔ ) ) [3]

'' اے علی! نظر کے پیچھے نظر نہ دوڑاؤں کیونکہ پہلی (اتفاقی) نگاہ تمہارے لیے معاف ہے۔ ''

حدیث میں پہلی نظر سے مراد اچانک پڑنے والی نگاہ ہے، جو بغیر قصد و ارادہ کے

[2] شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ؛ اسی وجہ سے ہم جنسی کا عمل کرنے والی عورت زانیہ ہے، جیسا کہ حدیث وارد ہے: (( زَنا النساء سحاقھن۔ ) )… '' دو عورتوں کا زنا ان کا باہم جنسی ملاپ ہے۔ '' [مجموع الفتاویٰ: ۵/ ۳۲۱]

[3] المسند للامام احمد، رقم الحدیث: ۹/ ۲۳۰۵۲۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت