فهرس الكتاب

الصفحة 161 من 352

زعم ہے کہ وہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو قرآن سکھاتا ہے وہ تو اعجمی ہے (یعنی غیر عربی ہے) اورعربی کلام نہیں کرسکتا '' وَھٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ ''جب کہ یہ قرآن تو انتہائی بلیغ عربی اور واضح بیان پر مشتمل ہے۔ تو ائے کافر ! تم یہ کیسے زعم رکھتے ہو کہ کوئی عجمی بشر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو قرآن سکھاتا ہے۔ حالانکہ تم اہل لسان اور فصاحت وبلاغت کے شہسوار ہونے کے باوجود قرآن کے مثل یا کسی ایک سورت کے مثل کلام پیش کرنے سے عاجز ہو؟

ان آیاتِ کریمہ سے یہ امور مستفاد ہورہے ہیں:

(۱) قرآن کے منزل من عند اللہ ہونے کا اثبات ۔

(۲) اور یہ کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے کسی فرشتے یا بشر کا نہیں۔

(۳) قرآن کو مخلوق کہنے والوں کی تردید۔

نیز ان آیات میں اللہ تعالیٰ کیلئے علو (بلندی میں ہونا) کا اثبات بھی ہورہا ہے کیونکہ انزال (اتارنا) بلندی سے ہی ہوتا ہے۔ (واللہ اعلم)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت