[ ۸ ] ذکر رضی اللّٰه وغضبہ وسخطہ وکرا ھیتہ فی ا لقرآن الکریم وأ نہ متصف بذ لک
وقولہ: { رَضِیَ اللّٰه عَنْہُمْ وَرَضُواعَنْہُ } (المائدۃ: ۱۱۹) وقولہ: {وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُہٗ جَھَنَّمُ خَالِدًا فِیْھَا وَغَضِبَ اللّٰه عَلَیْہِ وَلَعَنَہٗ } (ا لنسا ء: ۹۳) وقولہ: { ذٰ لِکَ بِأَنَّھُمُ اتَّبِعُوْا مَاأَسْخَطَ اللّٰه وَکَرِھُوارِضْوَانَہٗ } ( محمد:۲۸) وقولہ: { فَلَمَّا آسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْھُمْ } (الزخرف:۵۵) وقولہ: {وَلٰکِنْ کَرِہَ اللّٰه انْبِعَاثَھُمْ فَثَبَّطَھُمْ } (التوبۃ: ۴۶) وقولہ: { کُبَرَ مَقْتًا عِنْدَاللّٰه اَنْ تَقُوْلُوْامِالَا تَفْعَلُوْنَ } (ا لصف: ۳)
ان آیات کی تشریح
{ رَضِیَ اللّٰه عَنْہُمْ وَرَضُواعَنْہُ } (المائدۃ: ۱۱۹)
ترجمہ:'' اللہ ان سے راضی اور یہ اللہ سے راضی''
… شر ح …
یعنی اخلاص کے ساتھ انہوں نے جو نیکی کے کام کیئے ہیں اس پر اللہ ان سے راضی ہوگیاہے، اور اللہ نے ان کی نیکیوںکے عوض انہیں بطور بدلے کے جونعمتیں عطافرمائی ہیں ان کے ملنے پر وہ بھی اللہ سے راضی ہوگئے ہیں۔
رضائے الٰہی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے سب سے ارفع واعلیٰ نعمت ہے ۔