آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: [ أن تؤمن باللّٰه ، وملائکتہ، وکتبہ، ورسلہ، وا لیوم الآخر،وتؤمن بالقدرخیرہ وشرہ]
ترجمہ: [ایمان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور اسکے فرشتوں کے ساتھ اور اسکی کتابوں کے ساتھ اوراس کے رسولوں کے ساتھ اور یومِ آخرت کے ساتھ ایمان لائے اور تقدیر پر ایمان لائے خواہ اچھی ہو یابُری]
اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقدیر کے ساتھ ایمان لانے کو ایمان کا چھٹا رکن قرار دیا ہے، پس جس کسی نے تقدیر کا انکار کیا وہ مؤمن نہیں ہے جس طرح کہ اگر وہ دیگر ارکانِ ایمان میں سے کسی کا انکار کرے تو وہ مؤمن نہیںرہتا۔
شیخ رحمہ اللہ کا قول'' تقدیر پر ایمان کے دورجے ہیں…''
شیخ رحمہ اللہ اس مقام پر فرماتے ہیں کہ ایمان بالقدر چار مراتب پر مشتمل ہے، جن کی اجمالی تفصیل درج ذیل ہے:
الأولیٰ: ہر چیز کے متعلق اللہ تعالیٰ کا علمِ ازلی ، اس علمِ ازلی میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے اعمال کو عمل کرنے سے قبل جانتا ہے۔
الثانیۃ: اس علمِ ازلی کی لوحِ محفوظ میں کتابت۔
الثالثہ: ہر حادث کا اللہ تعالیٰ کی مشیئت ِشاملہ اور اس کی قدرتِ تامہ سے ہونا ۔
الرابعۃ: اللہ تعالیٰ ہی تمام مخلوقات کا موجد ہے ،یعنی اللہ تعالیٰ خالق ہے اور اس کے ماسویٰ ہر چیز مخلوق ہے ۔
تقدیر کے ان مراتب کے اجمالی ذکر کے بعد تفصیل ملاحظہ ہو۔