فهرس الكتاب

الصفحة 282 من 352

ترجمہ'' (بالخصوص) اس کیلئے جو تم میں سے سیدھی راہ پر چلنا ہے۔ اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے'' (التکویر:۲۸،۲۹)

پہلی آیت ' ' لِمَنْ شَائَ مِنْکُمْ اَن یَّسْتَقِیْمَ'' میں جبریہ پر رد ہے، کیونکہ اس میں بندوں کیلئے مشیئت کا اثبات ہے جبکہ یہ لوگ اس کی نفی کرتے ہیں۔

اور دوسری آیت'' وَمَاتَشَائُ وْنَ اِلاَّ اَنْ یَّشَائَ اللّٰه رَبُّ الْعَالَمِیْنَ'' میں قد ریہ پر رد ہے ، ان کا کہنا ہے کہ ایجاد فعل میں بندے کی مشیئت مستقل ہے اور اللہ تعالیٰ کی مشیئت پر موقوف نہیں ہے ۔ان کا یہ نظریہ باطل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت میں مشیئتِ عباد کو اپنی مشیئت کے ساتھ معلق و مربوط کردیا ہے۔

تقدیر کے اس درجہ''مشیئت ،ارادہ،خلق اوریہ کہ عباد بھی حقیقتًا اپنے افعال کے خالق ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کا اور ان کے افعال کا خالق ہے'' کی اکثر قدریہ نے تکذیب کی ہے ،ان کا زعم ِباطل یہ ہے کہ بندہ اپنے افعال کا خود ہی خالق ہے ،اور اس میں اللہ تعالیٰ کی مشیئت وارادہ کاکوئی دخل نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ''مجوس ھذہ الأمۃ''یعنی'' اس امت کا مجوسی ''قرار دیا ہے ،یعنی یہ لوگ اپنے اس باطل نظریہ میں مجوسیوں کے مشابہ ہیں، کیونکہ مجوسی دوخالقوں کا اثبات کرتے ہیں ''النور'' اور ''الظلمۃ' 'ان کا کہنا ہے کہ خیر ''النور'' کا فعل ہے اور شر''الظلمۃ '' کا فعل ہے۔ اس طرح یہ لوگ دو خالقوں کا اثبات کرکے ''الثنویۃ'' ہوگئے ہیں ،جبکہ قدریہ نے بھی بندوں کو اللہ تعالیٰ کے ارادہ ومشیئت کے بغیر افعال کا خالق قراردیکر اللہ تعالیٰ کے ساتھ خالق قرار دے دیا ہے بلکہ یہ لوگ بندوں کو اپنے افعال کا مستقلًا خالق قرار دیتے ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انہیں (قدریہ) ''مجوس ھذ الامۃ'' قرار دینا صحیح ثابت نہیں ہے کیونکہ ان کا ظہور تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے بعد ہوا ہے البتہ صحابہ کرام سے ان کی مذمت میں اقوال ثابت ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت