دونوں طرح کے ادلہ سے مراد فاسق سے ایمان کی نفی کرنیوالے ادلہ مثلًا: حدیث: [لایزنی الزنی…] اور فاسق کیلئے ایمان کو ثابت کرنیوالے ادلہ ہیں ،مثلًا: آیتِ قصاص اور آیت: {وَاِنْ طَا ئِفَتَانِ مِنَ الْمُوْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوا …} ہیں ۔
فاسق کے متعلق مذکورہ حکم کی بنا پر اسے ایمان مطلق یعنی ایمانِ کامل کا نام بھی نہیںدیا جاسکتا اور اس سے مطلق طور سے ایمان کا نام یعنی ایمان کی نفی بھی نہیں کی جاسکتی جیسا کہ خوارج اور معتزلہ کا مذہب ہے کہ یہ لوگ مطلق طور سے فاسق سے ایمان کی نفی کرکے اسے ایمان سے خارج کردیتے ہیں۔ (واللہ اعلم)