چنانچہ شیخ رحمہ اللہ نے واضح کیا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ کو عثمان رضی اللہ عنہ پر افضلیت دینے والے کی تضلیل درست نہیں کیونکہ اہل السنۃ میں یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے اگرچہ راجح بات عثمان رضی اللہ عنہ کی افضلیت ہے ۔
لیکن مسئلہ خلافت میں مخالفین کی تضلیل جائز ہے، یعنی جو لوگ مسئلہ خلافت میں اہل السنۃ کی مخالفت کرتے ہیں اور ان کی یہ رائے ہے کہ علی رضی اللہ عنہ خلافت میں ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم پر مقدم ہیں یایہ کہ علی رضی اللہ عنہ کو ابوبکر وعمر رضی اللہ عنھما پر افضلیت ہے کے گمراہ ہونے کا حکم لگایا جاسکتاہے۔
اہل السنۃ والجماعۃ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں کیونکہ انہیں پوری امت پر افضلیت حاصل ہے، سبقت الی الاسلام کا شرف حاصل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امامت کیلئے انہیں جمیع صحابہ پر مقدم فرمایا ہے اور ا ن کی بیعتِ خلافت پر صحابہ کا اجماع ہے۔
ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ ہیں کیونکہ انہیں باقی صحابہ پر افضلیت حاصل ہے ،سبقت الی الاسلام کا شرف حاصل ہے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنا ولی عہد مقرر فرمایا تھا اور امت نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد ان کی خلافت پر اتفاق کیا۔
عمر رضی اللہ عنہ کے بعد خلیفہ عثمان رضی اللہ عنہ ہیں، کیونکہ مجلسِ شوریٰ نے خلافت کیلئے انہیں مقدم کیا تھا ،اور امت نے ان کی خلافت پراتفاق کیا ہے ،عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد خلیفہ علی رضی اللہ عنہ ہیں ،کیونکہ انہیں باقی لوگوں پر افضلیت حاصل ہے اور ان کے معاصرین نے ان کی خلافت پر اجماع کیا ہے اور یہی وہ خلفاء اربعہ ہیں جن کی طرف عرباض بن ساریہ کی درج ذیل حدیث میں اشارہ کیا گیا ہے:
[ علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المھدین من بعدی ]
ترجمہ: [ تم پر میری سنت اور میرے بعد آنیوالے میرے خلفاء راشدین المھدیین کی سنت کو لازم پکڑلینا ]