فضائل ان گناہوں کی بخشش کا موجب بن جائیں گے حتی کہ ان کے ایسے گناہ بھی معاف ہوسکتے ہیں جو اگر دوسروں نے کئے ہوں تو معاف نہ ہوں کیونکہ ان کے پاس گناہوں کو مٹانے والی ایسی نیکیاں ہیں جو بعد میں آنیوالوں میں سے کسی کے پاس نہیں ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خیر القرون کہا ہے، اور یہ کہ ان میں سے کسی ایک کی طرف سے ایک مد صدقہ بھی آنیوالوں میں سے کسی کے اُحدپہاڑ کی مقدار سونے کے صدقہ سے بھی افضل ہے پھر اگر ان میں سے کسی سے کسی گناہ کا صدور ہوا بھی ہے تو اس نے توبہ کرلی ہوگی یا ایسے اعمال کرلئے ہوں گے جو اس گناہ کے مٹ جانے کا سبب بن گئے ہوں گے یا ان کی سبقت الی الاسلام جیسی عظیم فضیلت یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت جس کے یہ تمام لوگوں میں سے زیادہ حقدار ہیں، سے ان کے گناہ معاف کردیئے گئے ہوں گے یا کوئی دنیاوی آزمائش اس گناہ کا کفارہ بن گئی ہوگی۔ صحابہ میںثابت شدہ گناہوں کا جب یہ معاملہ ہے تو جن امور میں وہ مجتہد تھے، ان کا معاملہ کتنا ہلکا ہوگا، کہ اگر ان امور میں وہ مصیب تھے تو ان کیلئے ڈبل اجر ہے اور اگر خطأ پر تھے تو بھی ایک اجر کے مستحق ہیں، جبکہ خطأ معاف ہے۔
پھر ان کے جن افعال کی نکیر کی گئی ہے وہ ان کے فضائل اور محاسن کے مقابلے میں انتہائی قلیل …مثلًا: الایمان باللّٰه ورسولہ ،الجہاد فی سبیل اللّٰه ،الھجرۃ، النصرۃ (دین کی مدد) العلم النافع والعمل الصالح۔
جو شخص بھی علم وبصیرت کی نظر سے ان کے فضائل کو دیکھے گاوہ یقینی طور پر جان لے گا کہ یہ لوگ انبیاء کے بعد خیر الخلق (بہترین مخلوق) ہیں،ان سے پہلے ان جیسے تھے نہ ان کے بعد ان جیسے ہوں گے۔