حد قذف {زنا کی تہمت کی سزا} ، محصن {پاک دامن شادی شدہ مرد و عورت} پر زنا کی تہمت لگانا۔اور تہمت لگانے والے کو کوڑوں کی سزا۔
حد قذف {زنا کی تہمت کی سزا} ۔ جن حدود {سزاؤں} کے متعلق کتاب و سنت میں وارد ہے اور جس پر مسلمانوں کا اجماع ہوچکا ہے حد قذف بھی {انہی میں سے} ہے جب کوئی شخص کسی محصن {پاک دامن شادی شدہ مرد یا عورت} پر زنا کی {تہمت} یا لواطت کی تہمت لگائے تو تہمت لگانے والے پر اَسّی (80) کوڑوں کی حد {یعنی سزا} واجب ہوگئی ۔
او ریہاں محصن کے معنی حرّ، آزاد، عفیف اور پاک دامن {مرد و عورت} کے ہیں ۔ اور زنا کی حد کے موقع پر محصن کے معنی یہ ہیں کہ نکاحِ صحیح و تام سے اپنی بیوی سے وطی و جماع کیا ہو۔