کے قاضیوں کے لیے جہنم بتلائی ہے اور ایک قِسم کے قاضیوں کے لیے جنت۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا:
اَلْقُضَاۃُ ثَلَاثَۃٌ قَاضِیَانِ فِی النَّارِ وَقَاضٍ فِی الْجَنَّۃِ فَرَجُلٌ عَلِمَ الْحَقَّ وَقَضٰی بِہٖ فَھُوَ فِی الْجَنَّۃِ (رواہ اہل السنن)
قاضی {یعنی جج} تین قسم کے ہیں۔ دو قسم کے قاضی {جج} جہنم میں جائیں گے اور ایک قسم کے قاضی {جج} جنت میں۔ پس وہ آدمی جو حق کو پہچان کر صحیح اور سچا، انصاف پر مبنی فیصلہ کرے وہ جنت میں جا ئے گا ۔
اور قاضی {جج} ہر اس آدمی کو کہتے ہیں جو دوفریقوں کے درمیان فیصلہ کرے۔ اور دونوں فریق کو حکم دے۔ اب وہ شخص خلیفہ ہو یا سلطان یا اس کا نائب {یعنی گورنر} ہو، یہاں تک کہ بچوں کی تحریر و خط کے جو نگران {اساتذہ} ہیں ان کو بھی یہ حکم شامل ہے، ایسا ہی ذکر اصحابِ رسول اللہا نے کیا ہے۔ اور وہ ایسا ہی کرتے تھے اور یہ ظاہر ہے۔