الصفحة 88 من 234

جب مصالح اور مفاسد میں باہم ٹکر ہو تو دو مصلحتوں میں سے جو بڑی ہو اختیار کی جائے۔ اور ادنیٰ کو چھوڑ دیا جائے۔ اور جو بڑا مفسد {فسادِ اکبر} ہو اسے دُور کیا جائے، ادنیٰ مفسد {چھوٹا فساد} کے احتمال کے مقابلہ میں، یہی مشروع {عمل} ہے ۱۔ [1]

اور اثم عدوان کی اعانت کرنے والا وہ ہے جو ظالم کی اعانت کرے، لیکن وہ شخص جو مظلوم کی اعانت {و مدد} کرتا ہے یا جو ظلم ہورہا ہے اس میں کمی ہو اس کی اعانت کررہا ہے، یا جو ظلم ہوا ہے اس کا بدلہ دلوانے کی کوشش کر رہا ہے تو یہ مظلوم کا وکیل ہو گا نہ کہ ظالم کا۔ اور یہ بمنزلہ اس شخص کے ہو گا جس نے قرض دیا۔ یا ظالم کے ظلم سے بچانے کے لیے کسی کے مال کا وکیل ہوا۔ مثلًا یتیم کا مال، یا وقف کا مال ہے، اور یتیم اور وقف کے مال میں سے کسی ظالم نے خواہ مخواہ طلب کیا، اور اس کے ولی نے بوجہء مجبوری کم سے کم دینے کی کوشش کی، ظالم کو دیا، یا ظالم نے دلوایا، اور ولی نے پور ی پوری کوشش کر کے کم سے کم

اگر اصلاح کی یہ صورت ہے کہ اس کی اصلاح سے دوسرا منکر اس کے مساوی پیدا ہوتا ہے ،لیکن باعتبار مفاسد اس سے کم درجہ رکھتا ہے ،یا اس کی جگہ کم درجہ کا فساد پیدا ہوتا ہے یا جو مفاسد پیدا ہوئے ہیں کم درجہ کے ہوتے ہیں یا امر مستحسن پیدا ہوتا ہے،ان تین صورتوں میں اسلاح کے لیے اقدام فرض ہے اور اقدام میں کوتاہی کرنا گناہ ہے۔ ( ابو العلاء محمد اسمٰعیل کان اللہ لہٗ)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت