یہ کلام مخلوق کے مناسب حال نہیں بلکہ یہ تو خالق کا کلام ہے۔
وَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ رضی اللّٰه عنہ ''إِذَا تَکَلَّمَ اللّٰہُ بِالْوَحْیِ سَمِعَ صَوْتَہُ أَہْلُ السَّمَائِ'' وَرُوِیَ ذَالِکَ عَنِ النَّبِیِّ صلي للّٰه عليه وسلم ۔'' (۱)
ترجمہ…: اور جناب عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ''جب اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے کلام کرتے ہیں تو اس کی آواز آسمان والے سنتے ہیں۔'' اور یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی مروی ہے۔
تشریح…: (۱) جب اللہ تعالیٰ وحی کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا کلام آسمان والے سنتے ہیں اور آسمان میں فرشتے ہوتے ہیں۔ یہ حدیث جناب عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے موقوفًا مروی ہے۔ [1] لیکن یہ بات حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ کی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعًا بھی مروی ہے۔
(( إِذَا تَکَلَّمَ اللّٰہُ بِالْوَحْيِ أَخَذَتِ السَّمٰوَاتُ مِنْہُ رَدْعَۃً أَوْ رَجْفَۃً شَدِیْدَۃً، فَإِذَا سَمِعَ ذٰلِکَ أَہْلُ السَّمَائِ صُعِقُوْا، وَخَرُّوْا لِلّٰہِ سُجَّدًّا، فَیَکُوْنُ أَوَّلُ مَنْ یَرْفَعُ رَأْسَہٗ جِبْرِیْلُ، فَیُکَلِّمُہُ اللّٰہُ مِنْ وَحْیِہٖ بِمَا شَائَ، ثُمَّ یَمُرُّ جِبْرِیْلُ کُلَّمَا مَرَّ بِأَہْلِ سَمَائٍ سَأَلَہٗ أَہْلُہَا: مَاذَا قَالَ رَبُّنَا یَا جِبْرِیْلُ؟ فَیَقُوْلُ: قَالَ الْحَقَّ، وَہُوَ الْعَلِيُِّ الْکَبِیْرُ۔ ) ) (تفسیر الطبری: ۱۰/۳۷۳۔ تفسیر ابن کثیر: ۶/۵۱۶)
''جب اللہ تعالیٰ وحی کے طور پر کلام کرتا ہے تو آسمان اس (کی ہیبت) سے کانپنے لگتے ہیں۔ جب آسمان والے اسے سنتے ہیں تو مدہوش ہوجاتے ہیں اور