فهرس الكتاب

الصفحة 222 من 440

(۲) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''إِنَّکُمْ سَتَرَونَ رَبَّکُمْ کَمَا تَرَونَ…۔'' گویا رؤیت کو رؤیت کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔

اشاعرہ کا مؤقف:

چونکہ رؤیت ثابت ہے سو، اشاعرہ کو اس کی نفی کا کوئی راستہ نظر نہ آیا۔ لہٰذا انہوں نے معتزلہ کے مذہب سے نکلنا چاہا۔ لیکن ان کی بدبختی کہ انہوں نے یہ کہہ دیا: اللہ تعالیٰ دکھائی تو دے گا لیکن کسی جہت میں نہیں۔ کیونکہ وہ اللہ کے علو کی نفی کرتے ہیں۔

جواب…: ہم کہتے ہیں یہ باطل کلام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جہت علو میں دکھائی دے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت