فهرس الكتاب

الصفحة 296 من 440

گا۔ بلکہ حیرت زدہ ہوکر کہے گا۔

(( ھَاہْ ھَاہْ، لَا أَدْرِيْ، سَمِعْتُ النَّاسَ یَقُوْلُوْنَ شَیْئًا فَقُلْتُہٗ۔ فَالْأَوَّلُ یُنْعَمُ، وَیُفْتَحٗ لَہٗ بَابٌ إِلَی الْجَنَّۃِ، وَہٰذَا یُعَذَّبُ وَیُضَیَّقُ عَلَیْہِ فِيْ قَبْرِہٖ حَتَّی تَخْتَلِفَ أَضْلَاعُہٗ، وَیُفْتَحُ لَہٗ بَابٌ إِلَی النَّارِ۔ ) )

''ہائے ہائے میں نہیں جانتا، میں نے لوگوں کو جو کچھ کہتے سنا وہ کہہ دیا۔ لہٰذا اوّل الذکر کو نعمتوں سے نوازا جاتا ہے اور اس کے لیے جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔ جبکہ اس (دوسرے کو) عذاب قبر دیا جاتا ہے اور اس کی قبر تنگ کردی جائے گی۔ حتیٰ کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں گھس جاتی ہیں اور اس کے لیے آگ کی طرف ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔'' [1]

ہم اللہ سے ثابت قدمی طلب کرتے ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

{یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَۃِ وَ یُضِلُّ اللّٰہُ الظّٰلِمِیْنَ ط وَ یَفْعَلُ اللّٰہُ مَا یَشَآئُ،} (ابراہیم:۲۷)

''اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے، پختہ بات کے ساتھ خوب قائم رکھتا ہے، دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں بھی۔ اور اللہ ظالموں کو گمراہ کر دیتا ہے اور اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے۔''

یہ آیت مبارکہ عذاب قبر اور دو فرشتوں منکر و نکیر کے سوال کرنے کی دلیل ہے۔ اسی

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت