اگرچہ مسلمانوں کو گمراہی و بربادی کی طرف دعوت دینے والے دن رات اپنے مکرو فریب میں مصروف ہیں مگر اللہ کی طرف دعوت دینے والے علماء بھی میدان میں موجود ہیں ان علماء نے گمراہی کی ان ٹھکانوں میں اور مراکز پر اچانک حملہ کر دیا ہے۔مسلم ممالک میں سر گرم عمل تھے اور ان میں فساد پھیلا رہے تھے۔ان طفیلیوں نے اپنا مرکز نگاہ صلیبی و یہودی تہذیب کو بنا لیا تھا۔ان کا یہ خیال تھا کہ اس طرح امت مسلمہ رفتہ رفتہ اسلام سے خارج ہو جائے گی اور پھر واپس نہیں پلٹے گی۔
لیکن ان لوگوں نے بہت سے حقائق کو نظر انداز کیا تھا۔یہ حقائق ان کے حساب کے دائرہ میں نہیں آسکتے نہ ہی ان کے وہم و گمان میں آسکتے ہیں۔اس لئے کہ اللہ نے ان کے کان ان حقائق کو سننے سے بہرے کر دیئے ہیں۔ان کے دلوں اور آنکھوں پر پردے ڈال دیئے ہیں۔یہ نہ ان کو سمجھ سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں وہ حقائق یہ ہے:
میں کہتا ہوں اس میں شمر بن یقظان ہے جو کہ ابراہیم بن ابی عبلہ کے والد ہیں اس میں صرف اس کے بیٹے نے ہی روایت کیا ہے اور ابن حبان کے علاوہ کسی نے بھی اس کی توثیق نہیں کی۔لہٰذا وہ مجہول ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ مذکورہ حدیث اپنے طرق اور شواہد کی بنا پر صحیح ہے جیسا کہ اصطلاحات و قواعد کی کتب سے اس طرح کی صحت ثابت ہے۔