اس طرح کی باتیں کرنے والے دراصل سلف صالح لفظ کی تاریخ سے لا علم ہیں۔اس کے اشتقاقی و زمانی معنی سے بے خبر ہیں اس لئے کہ دور اول کے اہل علم ہر اس آدمی کو سلفی کہتے تھے جو عقیدہ و منہج میں صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے فہم کا متبع ہوتا تھا۔جیسا کہ مورخ اسلام امام ذھبی رحمۃ اللہ علیہ،حافظ دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ کا قول نقل کرتے ہیں کہ مجھے علم کلام سے بڑھ کر کوئی چیز پسند نہیں ہے۔اور فرماتے ہیں آدمی علم کلام اور جدال میں کبھی داخل نہیں ہو سکتا بلکہ وہ سلفی رہتا ہے۔ [1]
۱۔ کیا سلفی نام رکھنا بدعت ہے؟
کچھ لوگ کہتے ہیں سلفی نام رکھنا بدعت ہے۔اس لئے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صحابہ نے یہ نام نہیں رکھا۔
ازالہ:
رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے زمانے میں لفظ سلفیت کا اطلاق نہیں ہوتا تھا اس لئے کہ اس وقت اس کی ضرورت نہیں تھی اس لئے کہ اس دور کے مسلمان صحیح اسلام پر عمل پیرا تھے۔اس لئے لفظ سلفی کی ضرورت نہیں تھی۔اس لئے کہ وہ اس پر
۳۔تاریخی حقائق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ محمد عبدہ کا تعلق ماسونیت کے ساتھ تھا۔مگر اس کاجواب یہ دیا گیا ہے کہ محمد عبدہ کو اس بارے میں دھوکہ دیا گیا تھا انہیں ماسونیت کی حقیقت کا علم نہیں تھا۔
۴۔سلفیت کا تعلق جمال الدین افغانی اور محمد عبدہ کی تحریک سے جوڑنا سلفیت پر الزام ہے۔اگرچہ مخفی طریقے سے ہے مگر ان لوگوں کا طریقہ یہی ہے کہ کسی چیز کو اسی طرح مشکوک بناتے ہیں۔
سیر اعلام النبلاء، (16؍ 458)