کوئی بدعتی روایت حدیث میں مشہور ہوا ہو یا کسی نے شرعی احکام لینے مں کسی بدعتی کی اقتداء کی ہو۔ [1]
اس اللہ کے لئے تمام تعریفیں ہیں جس نے اس گروہ اسلام کا حصہ مکمل دیا ہے۔اور ان کو ہر قسم کی عزت دی ہے انہیں امتیازی حیثیت دی ہے انہیں اپنے اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے کی طرف ہدایت
میں کہتا ہوں اس کی سند صحیح ہے اس لئے کہ ابن لھیعہ کی روایت جب عبادلہ کے ذریعے اور ان سے ابن المبارک روایت کرتے ہوں تو وہ صحیح ہوتی ہے ۔ابن المبارک کہتے ہیں"اصاغر سے مراد اہل البدعت ہیں اس کے لئے ایک شاہد بھی ہے جو ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہے اور وہ مرفوع کے حکم میں ہے اس لئے کہ ابن مسعود اپنی رائے اور اجتھاد سے نہیں بولتے۔اس کے الفاظ اس طرح ہیں:"لا یزال الناس بخیر ما اتاھم العلم من اصحاب محمد واکابر ھم فاذا اتاھم العلم من قبل اصاغرھم فذلک حین ھلکوا"ترجمہ:''لوگ ہمیشہ خیر پر رہیں گے جب تک ان کے پاس علم محمد کے صحابہ اور اکابر سے آئے گا جب ان کے پاس علم اصاغر سے آنے لگے گا تو یہ ان کی ہلاکت کا وقت ہوگا۔''"