فَسَيضرضى اخْتِلاَفًا كَثِيرًا،وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الأُمُورِ فَإِنَّهَا ضَلاَلَةٌ فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَعَلَيْهِ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ،عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ ))
عرباض بن ساریہ کی روایت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے میں تمہیں اللہ سے ڈرنے (تقوی) کی وصیت کرتا ہوں،اور (اس بات کی کہ) سنو اور اطاعت کرو اگرچہ ایک حبشی غلام ہو (امیر یا حکمران) تم میں سے جو زندہ رہے گا وہ بہت سا اختلاف دیکھے گا (دین میں) نئے ایجاد کردہ امور سے بچو کہ یہ گمراہی ہے۔تم میں سے جو بھی ان حالات سے دوچار ہو تو اسے چاہیئے کہ میری اور خلفائے راشدین کی سنتوں کو اپنائے رکھے انہیں مضبوطی سے تھامے رکھے۔ [1]
اس حدیث کی اور بھی سندیں ہیں جیسے یحییٰ بن ابی اعطاع کہتے ہیں میں نے عرباض بن ساریہ سے سنا اس کے رجال ثقہ ہیں ،ربستہ دحیم نے اشارۃ کہا ہے کہ یحییٰ بن ابی المطاع کی عرباض سے روایت مرسل ہے۔میں کہتا ہوں یحییٰ نے عرباض سے سماعت کی صراحت کی ہے اور ان تک سند صحیح ہے۔اس حدیث کے اور بھی طرق ہیں لہٰذا یہ حدیث بغیر شک شبہ کے ثابت ہے علماء کی رائے اس حدیث کی تصحیح اور اس سے دلیل لینے پر متفق ہے ۔سوائے ابن القطان الفاسی کے مگر اس پر اور اس کے مقلدی پر ادا کرنے کا یہ موقع نہیں ہے