ثابت ہورہا ہے 'اس لئے دحلان نے اپنی کتاب میں اس کو جگہ دے دی۔اگر کوئی دوسرا ایسا کرتا تو اس پر جھپٹ پڑتے کہ بھلا خواب بھی کہیں دلیل وحجت بن سکتا ہے؟لیکن یہاں معاملہ اپنا خود کا ہے 'اس لئے الٹا سیدھا جوکچھ مل جائے 'سب کمزور دلائل کی نوکری میں ڈھیر کردیا جائے۔یہ اس آدمی کا حال ہے جس کے علم وفضل کا کچھ لوگ پروپیگنڈہ کرتے ہیں اورجو کسی زمانہ میں مکہ کا قاضی بھی رہ چکا ہے۔
البتہ جن کو اپنے علم کا احساس ہے 'ان کا فرض ہے کہ علم کا حق اداکریں۔جادہ حق سے سرمو انحراف نہ کریں اور نصوص میں تحریف وتبدیل سے اجتناب کریں 'کیونکہ یہ علماء کی شان کے خلاف ہے۔بہرحال 'دحلان مرچکے ہیں 'ہمیں امید ہے کہ مرنے سے قبل انہوں نے ان لغویات سے توبہ کرلی ہوگی۔
اب ذرا اس خواب پر ایک نظر ڈال لی جائے جو حضرت امام ترمذی رحمہ اللہ کی طرف منسوب ہے۔
۱۔ اس خواب کی کوئی صحیح سند جو امام ترمذی رحمہ اللہ تک پہنچتی ہو 'موجود نہیں۔
۲۔ خواب کی کوئی شرعی حیثیت نہیں 'نہ وہ دین کی کوئی اصل ہے خصوصًا وہ خواب جو کتاب وسُنّت کی نص کے خلاف ہو
ہم امام ترمذی رحمہ اللہ جیسے علم کے پہاڑ ناصرالسنہ النبویہ المطہرہ کو اس سے بہت بلند سمجھتے ہیں کہ وہ اس طرح کی لغو بات کہیں گے جس سے کذاب اور وضاع لوگ فائدہ اٹھائیں اور ان بزرگوں کے نام سے عوام کو گمراہ کریں۔عوام تو علم وتحقیق سے