کورے ہوتے ہیں۔اگر انہوں نے اپنے بزرگوں کے متعلق کچھ سن لیا تو اس کو پکڑ بیٹھے ہیں اور رفتہ رفتہ کچھ عرصہ بعد خواص بھی اس کے قائل ہوجاتے ہیں۔امت میں کذاب ودجال لوگوں نے اسی طرح گمراہیاں پھیلائیں ہیں۔ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ امام ترمذی رحمہ اللہ اس خواب سے بری ہیں 'اور ان کی طرف اس خواب کو منسوب کرنے والے جھوٹے فریبی لوگ اس کی صحیح ومتصل سند نہیں پیش کرسکتے۔
اﷲتعالیٰ نے اس امت پر بڑا اانعام واحسان فرمایا ہے کہ اس دین کی حفاظت کی ذمہ دار ی خود ہی قبول فرمالی ہے 'اور اس دین کومکمل کردیا اور اس سے راضی ہوا۔لہٰذا قرن اول میں جو چیز دین نہ تھی 'آج بھی دین نہ ہوگی۔دین مکمل ہے۔اﷲکا ارشاد ہے۔
اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمْ الْاِسْلَامَ دِیْنًا
''آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے دین اسلام سے راضی ہوا۔'' (المائدہ)
لہٰذا اس کے بعد ہم کو کسی خواب کی ضرورت نہیں جو ہمارے دین کی بنیاد کو ہلاڈالے۔اگر یہ خواب صحیح مان لیا جائے تو واقعہ کے اعتبار سے ہر صحیح چیز قابل قبول نہ ہوگی 'جب تک کہ وہ کتاب وسُنّت کے موافق نہ ہو 'اور اس سے دین کی کوئی اصل ٹوٹتی نہ ہو۔