''لَا تُطْرُوْنِيْ کَمَا أَطْرَتِ النَّصَارٰی ابْنَ مَرْیَمَ، فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُہٗ، فَقُوْلُوْا:عَبْدُاللّٰہِ وَ رَسُوْلُہٗ۔'' [1]
''میری تعریف میں اس طرح مبالغہ آرائی نہ کرنا، جس طرح نصرانیوں نے ابن مریم علیہ السلام کی تعریف میں مبالغہ آرائی کی۔درحقیقت میں تو اُن کا بندہ ہوں۔تم (میرے بارے میں) کہو:
''اللہ تعالیٰ کا بندہ اور رسول- صلی اللہ علیہ وسلم -۔''
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح و ثنا میں راہِ اعتدال سے تجاوز کرنے والے اس بات کو بھی نظر انداز کردیتے ہیں، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے شدّت سے روکا ہے، کہ اُن کے لیے ایسی صفات ذکر کی جائیں، جو صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے مختص ہیں۔
امام احمد حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، کہ انہوں نے بیان کیا:''ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا:
''مَا شَائَ اللّٰہُ وَ شِئْتَ۔''
''وہ ہوگا، جو اللہ تعالیٰ چاہیں گے اور آپ چاہیں گے۔''
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
''أَجَعْلَتَنِيْ وَ اللّٰہَ عَدْلًا؟ بَلْ مَا شَائَ اللّٰہُ وَحْدَہٗ۔'' [2]
''کیا تو نے مجھے اور اللہ تعالیٰ کو ہم پلّہ کر دیا ہے؟ بلکہ(اس کی بجائے یہ
[2] المسند رقم الحدیث ۱۸۳۹، ۳/۲۵۳۔شیخ احمد شاکر نے اس کی [سند کو صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: ہامش المسند ۳/۲۵۳) ۔