شیخ محمد فواد عبد الباقی اس کی شرح میں لکھتے ہیں:
یہ دعائیہ جملہ ہے۔اس سے مراد یہ ہے، کہ اللہ تعالیٰ آپ کی بجائے میرے سینے کو دشمنوں کے تیروں کے قریب کرے، تاکہ جو تکلیف پہنچے، وہ آپ کی بجائے مجھے پہنچے۔ [1]
امام ابن اسحاق کی ایک اور سچے محب کے بارے میں نقل کردہ روایت میں ہے:
''وَ تَرَّسَ دُوْنَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم أَبُوْ دَجَانَۃِ رضی اللّٰهُ عنہ بِنَفْسِہٖ، وَ یَقَعُ النَّبْلُ فِيْ ظَہْرِہٖ، وَ ہُوْ مُنْحَنٍ عَلَیْہِ، حَتّٰی کَثُرَ فِیْہِ النَّبْلُ۔'' [2]
''ابودجانہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اپنے آپ کو ڈھال بنا دیا۔نیزے ان کی پشت میں پیوست ہوتے رہے، لیکن وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر
برابر جھکے رہے، یہاں تک کہ بہت سے نیزے ان کی پشت میں پیوست ہوگئے۔''
اور ایک دوسری روایت میں ہے:
''وَ ہُوَ لَا یَتَحَرَّکُ۔'' [3]
''انہوں نے (نیزوں کے لگنے کے باوجود) حرکت تک نہ کی۔''
اللہ اکبر!کون سی وہ قوت تھی، جس نے حضرت ابودجانہ رضی اللہ عنہ کو نیزوں کے پشت میں
[2] السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ۳/۳۰۔نیز ملاحظہ ہو: السیرۃ النبویۃ لابن حبان البستي ۲۲۴؛ و تاریخ الإسلام (المغازي) للذہبي ص ۱۷۴۔۱۷۵۔
[3] جوامع السیرۃ لابن حزم ص ۱۶۲۔نیز ملاحظہ ہو: زاد المعاد ۳/۱۹۷۔