میں نے عرض کیا:''اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں۔''
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:''انصار کے سوا میرے پاس کوئی نہ آئے۔''
پھر فرمایا:''وہ صفا پر میرے پاس پہنچ جائیں۔''
وہ (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں:''ہم روانہ ہوئے، تو کیفیت یہ تھی، کہ
ہم جسے چاہتے قتل کردیتے اور اُن (قریش) میں سے کوئی اپنا دفاع کرنے کے بھی قابل نہ تھا۔''
انہوں (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) نے (مزید) بیان کیا:''ابوسفیان آئے اور کہا:اے اللہ کے رسول!قبیلۂ قریش کا نام و نشان مٹ گیا، آج کے بعد قریش کا وجود ختم ہوجائے گا۔''
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:''ابوسفیان کے گھر میں داخل ہونے والے کے لیے امن ہے۔ (اس سے تعرض نہ کیا جائے گا) ۔''
انصار نے (یہ اعلان سن کر) آپس میں ایک دوسرے سے کہا:''اپنی بستی کی محبت اور کنبے کی شفقت آدمی (رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم) پر غالب آگئی ہے۔''
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا:''وحی آئی اور وحی کے ختم ہونے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دی۔''اے گروہِ انصار''
انہوں نے عرض کیا:''ہم حاضر ہیں، ہم حاضر ہیں۔''
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:''تم نے کہا ہے:''آدمی پر اس کی بستی کی محبت غالب آگئی ہے۔''