فهرس الكتاب

الصفحة 118 من 125

ایک دانت بھی نہیں رہے گا۔ (اسلام کے مجرم صفحہ 52)

ازالہ:۔

اولًا:ڈاکٹر شبیرنے اس روایت کو تاریخ طبری سے نقل کیا ہے مگر کتاب کا نام غلط لکھا ہے ''ام التواریخ ''حالانکہ کتاب کا نام ہے ''تاریخ الامم والملوک ''المعروف تاریخ طبری رحمہ اللہ۔

ثانیًا:یہ روایت من گھڑت ہے جسکو ڈاکٹر صاحب نے بڑے دھڑلے سے ذکر کردیا ہے اسنادی حیثیت سے قطع نظر اگر صرف عبارت پر ہی غور کیا جائے توتاریخ کا ایک عام طالب علم بھی اس کے جھوٹ کو محسوس کرلے گا۔

مذکورہ عبارت میں ہے کہ ''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے دن سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بن معاذ نے سیدنا عمر کی داڑھی پکڑلی۔ (اسلام کے مجرم صفحہ52)

حالانکہ سعد رضی اللہ عنہ بن معاذ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ہی وفات پاگئے تھے۔

حافظ ابن حجر فرماتے ہیں:

''سعد بن معاذ النعمان بن امریٔ القیس بن زید بن عبدالاشھل۔۔۔۔۔سیدالاوس شھدبدرًا باتفاق ورمی بھم یوم الخندق فعاش بعد ذلک شھرًا حتی حکم فی بنی قریظہ وأصیبت دعوتہ فی ذلک ثم انتقض جرحہ فمات وفی الصححین وغیرھما من طرق النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم اھتزالعرش لموت سعد بن معاذ'' ( [1] )

''سعد رضی اللہ عنہ بن معاذ بن نعمان۔۔۔۔۔اوس قبیلے کے سردار تھے بالاتفاق بدری صحابی ہیں غزوہ خندق کے دن ان کو تیر لگا تھا اس کے تقریبًا ایک مہینے بعد تک زندہ رہے یہاں تک کہ بنوقریظہ

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت