اور جہاں تک بات ہے ''امت کی مصروفیات اور حقوق ازواج''کی اس کے جواب میں ہم ایک غیر مسلم مؤلف پال برنٹن کے الفاظ نقل کئے دیتے ہیں۔
''میں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم) کی دانائی کی تکریم کئے بغیر نہیں رہ سکتا جنہوں نے اپنے پیرو کاروں کو اتنی خوش اسلوبی کے ساتھ دینی زندگی کو دنیاوی مصروف زندگی کے ساتھ سمونا سکھا دیا۔''
ڈاکٹر شبیر نے ایک روایت نقل کی ہے کہ
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تنہا (بے نکاح) ہونے کی شکایت کی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کبوتری کو ساتھی (زوجہ) بنالو۔ (اسلام کے مجرم صفحہ22)
ازالہ:۔
اس روایت کو حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب''المنار المنیف''میں ذکر فرمایاہے۔ ( [2] ) ڈاکٹر شبیر نے اس کتاب کا نام ''البحار الحنیف '' ذکر کیا ہے جو کہ غلط ہے حافظ ابن قیم کی کوئی کتاب اس نام سے دستیاب نہیں۔ہوسکتا ہے ڈاکٹر شبیر سے اس کتاب کا نام لکھنے میں سہو ہوگیا ہو۔
حافظ ابن قیم نے اپنی تصنیف ''المنار المنیف ''میں ان روایات کو یکجا کیا ہے جو کہ موضوع
[2] المنارالمنیف۔ص97.