فهرس الكتاب

الصفحة 40 من 125

بالفرض اگر کوئی دشمن اسلام قرآن کی کسی آیت پر اعتراض کردے مثلًا '' أَفَرَأَيْتُمْ مَا تُمْنُونَ ( [1] ) کہ اچھا ذرا یہ بتلاؤ کہ جو منی تم ٹپکاتے ہو۔یا سورہ مریم می ریم علیہ السلام کا حاملہ ہونے کا ذکر ہے۔تو ہم اس اعتراض کاکیا جواب دیں گے؟ یقینا تاویل کریں گے جب قرآن مجید کے لئے تاویل کرسکتے ہیں تو حدیث کے لئے کیوں نہیں ؟۔

خیر خواہی کے نام پر نواں(9)اعتراض:

ڈاکٹر شبیررقمطراز ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو سرزنش کی تم نے شوہر دیدہ (بیوہ) عورت سے نکاح کیوں کیا؟کنواری نو عمر لڑکی سے نکاح کیوں نہ کیا کہ تم اس سے کھیلتے وہ تم سے کھیلتی۔

مزید فرماتے ہیں:آپ تو بیواؤں اور بے سہاروں کا سہارا تھے۔ (اسلام کے مجرم صفحہ 26)

ازالہ:۔

یہ حدیث صحیح بخاری کتاب النکاح کا ایک جز ہے کہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جابر رضی اللہ عنہ سے گھر کی جانب جلدی جانے کی وجہ دریافت فرمائی تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ:

کنت حدیث عھد بعرس قال بکرًام ثیبًا ؟قلت ثیبا قال فھلا جاریۃ تلاعبھا وتلاعبک ( [2] )

''فرماتے ہی یری ابھی نئی نئی شادی ہوئی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے استفسار فرمایا کہ کنواری سے شادی کی ہے یا شادی شدہ (بیوہ یا طلاق یافتہ) سے۔تو میں نے عرض

[2] صحیح الصحیح بخاری کتاب النکاح باب تزویج الثیبات رقم الحدیث 5079.

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت