فهرس الكتاب

الصفحة 23 من 119

بیٹی کی پیدائش پر افسردہ ہونے کا کافروں کی صفات میں سے ہونا

اللہ عزوجل نے مشرکوں کی ایک بری عادت کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُھُمْ بِالْاُنْثٰی ظَلَّ وَجْہُہٗ مُسْوَدًّا وَّ ھُوَکَظِیْم

یَتَوَارٰی مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓئِ مَا بُشِّرَ بِہٖ اَ یُمْسِکُہٗ عَلٰی ھُوْنٍ اَمْ یَدُسُّہٗ فِی التُّرَابِ اَ لَاسَآئَ مَا یَحْکُمُوْنَ [1]

[اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی خوش خبری دی جاتی ہے، تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے، اور وہ غم سے بھرا ہوتا ہے۔ اسے دی گئی بشارت کی وجہ سے لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے۔ آیا ذلت کے باوجود اس کو [اپنے پاس] رکھ لے یا اسے مٹی میں ٹھونس دے۔ آگاہ رہو ، کہ ان کا فیصلہ بڑا بُرا ہے]۔

ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا:

{وَاِِذَا بُشِّرَ اَحَدُہُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْہُہُ مُسْوَدًّا وَّہُوَ کَظِیْمٌ} [2]

[اور جب ان میں سے کسی کو اس چیز کی خوش خبری دی جائے، جس کی اس نے رحمان کے لیے مثال بیان کی ہے، تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ غم سے بھرا ہوتا ہے۔]

امام ابن قیم لکھتے ہیں:

[2] سورۃ الزخرف /الآیۃ ۱۷۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت