فهرس الكتاب

الصفحة 25 من 119

۲: یعقوب بن بختان نے بیان کیا: ''میرے ہاں سات بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ جب بھی میرے ہاں بیٹی پیدا ہوتی ، تو (امام) احمد بن حنبل میرے پاس تشریف لاتے اور مجھ سے فرماتے:

''یَا أَبَا یُوْسُفُ! الْأَنْبِیَائُ آبَائُ بَنَاتٍ۔''

[''اے ابو یوسف! انبیاء علیہم السلام بیٹیوں کے باپ تھے۔'']

ان کا یہ فرمانا میرے غم کو ختم کر دیتا۔ [1]

ب: بیٹی اور بیٹے دونوں کی ولادت پر مبارک باد دینا:

امام ابن قیم لکھتے ہیں:

'' وَلَا یَنْبَغِيْ لِلرَّجُلِ أَنْ یُّھَنِّی ئَ بِالْاِبْنِ وَلَا یُہَنِّیْ ئَ بِالْبِنْتِ ، بَلْ یُھَنِّيئُ بِھِمَا أَوْ یَتْرُکُ التَّھْنِئَۃَ لِیَتَخَلَّصَ مِنْ سُنَّۃِ الْجَاھِلِیَّۃِ، فَإِنَّ کَثِیْرًا مِنْھُمْ کَانُوْا یُھَنَّئُوْنَ بِالْاِبْنِ ، وَبِوَفَاۃِ الْبِنْتِ دُوْنَ وِلَادَتِھَا۔'' [2]

[''آدمی کے لیے جائز نہیں ، کہ بیٹے کی (پیدائش پر) مبارک باد دے اور بیٹی کی ( پیدائش پر) مبارک باد نہ دے، بلکہ وہ یا تو دونوں کی (پیدائش پر) مبارک باد دے یا دونوں پر نہ دے ، تاکہ وہ طریقہ جاہلیت سے بچ جائے ، کیونکہ ان کی اکثریت بیٹے کی (پیدائش پر) مبارک باد دیتی تھی اور بیٹی کی ولادت کی بجائے اس کی وفات پر مبارک باد دیتی تھیں۔'']

[2] المرجع السابق ، ص ۳۴۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت