فهرس الكتاب

الصفحة 42 من 119

کی ہے، کہ یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''لَا تُنْکَحُ الْأَیِّمُ حَتَّی تُسْتَاْمَرَ، وَلَا تُنْکَحُ الْبِکْرُ حَتَّی تُسْتَاْذَنَ۔''

[''بیوہ کا نکاح، اس کا حکم لئے بغیر نہ کیا جائے، اور دو شیزہ کا نکاح اس کی اجازت لئے بغیر نہ کیا جائے۔'']

انہوں [صحابہ] نے عرض کیا:

''یَارَسُوْلَ اللّٰہِ، وَکَیْفَ إِذْ نُہَا؟''

''یارسول اللہ۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ اس [یعنی دو شیزہ] کی اجازت کیسے ہے؟'']

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''أ۔'' [1]

[''یہ کہ وہ خاموش رہے۔'']

امام بخاری نے اس پر درج ذیل عنوان تحریر کیا ہے:

[بَابُ لَا یُنْکِحُ الْأَبُ وَغَیْرُہُ الْبِکْرَ والثَّیِّبَ إِلَّا بِرَضَاھِمَا] [2]

[ (اس بارے میں) باب کہ باپ یا کوئی اور (ولی) دو شیزہ یا بیوہ کا نکاح ان کی رضا مندی کے بغیر نہ کرے]

امام نووی نے صحیح مسلم کی روایت پر درج ذیل عنوان تحریر کیا ہے:

[بَابُ اسْتِئْذَانِ الثَّیِّبِ فِيْ النِّکَاحِ بِالنُّطْقِ وَالْبِکْرِ بِالسُّکُوْتِ] [3]

[بیوہ سے نکاح میں بول کر اور دو شیزہ سے خاموش رہ کر اجازت لینے کے

[2] صحیح البخاري ۹/۱۹۱۔

[3] صحیح مسلم ۲/۱۰۳۶۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت