فهرس الكتاب

الصفحة 47 من 119

زَوَّجَھَا، وَھِيَ کَارِھَۃٌ، فَخَیَّرَھَا النَّبِيَّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ۔'' [1]

[بلاشبہ ایک دو شیزہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا، کہ اس کے والد نے اس کا نکاح کیا ہے اور وہ اس کو ناپسند کرتی ہے ، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اختیار دے دیا۔]

امام ابن قیم دو شیزہ کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے متعلق تحریر کرتے ہیں:

''وُمُوْجِبُ ھٰذَا الْحُکْمِ أَنَّہُ لَا تُجْبَرُ الْبِکْرُ الْبَالِغُ عَلَی النِّکَاحِ، وَلَا تُزَوَّجُ إِلَا بِرَضَاھَا۔ وَھٰذَا قَوْلُ جَمْہُوْرِ السَلَفِ، وَمَذْھَبُ أَبِيْ حَنِیْفَۃِ وَأَحْمَدَ فِيْ إِحْدَی الرِّوَایَتَیْنِ عَنْہُ، وَھُوَ الْقَوْلُ الَّذِيْ نَدِیْنُ اللّٰہَ بِہِ، وَلَا نَعْتَقِدُ سِوَاہُ، وَھُوَ الْمَوَافِقُ لِحُکْمِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وَأَمْرِہِ وَنَھْیِہِ، وَقَوَاعِدِ الشَرِیْعَۃِ وَمَصَالِحِ أُمَّتِہِ۔'' [2]

[2] زاد المعاد ۵/۹۶؛ نیز ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۵/۹۶۔۹۹؛ وسبل السلام ۳/۲۳۶۔ ۲۳۸؛ ونیل الأوطار ۶/۲۵۵۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت