ا: صحیح مسلم میں ہے: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
''فَلَا تُشْہِدْنِيْ إِذَا ، فَإِنِّيْ لَا أَشْہَدُ عَلٰی جَوْرٍ۔'' [1]
''پھر مجھے گواہ نہ بناؤ، کیونکہ بے شک میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا۔''
ب: صحیح مسلم میں ہی ہے: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
''فَلَیْسَ یَصْلُحُ ھٰذَا، وَإِنِّيْ لَا أَشْہَدُ إِلَّا عَلٰی حَقٍّ۔'' [2]
''یہ درست نہیں اور یقینا میں حق کے علاوہ کسی اور بات پر گواہ نہیں بنتا۔''
ج: سنن النسائی میں ہے:
''أَ لَا سَوَّیْتَ بَیْنَہُمْ؟'' [3]
[تم نے ان کے درمیان مساوات کیوں نہیں کی''؟]
د: صحیح ابن حبان میں ہے: '' سَوِّ بَیْنَہُمْ'' [4]
''ان کے درمیان مساوات کرو''
ہ: صحیح مسلم اور سنن النسائی میں ہے: ' ' فَأَرْجِعْہُ'' [5]
''پس اسے کو واپس لے لو''
[2] صحیح مسلم، جزء من رقم الحدیث ۱۹۔ (۱۶۲۴) ، ۳/۱۲۴۴۔
[3] صحیح سنن النسائي، کتاب النُّحَل، باب ذکر اختلاف ألفاظ الناقلین لخبر النعمان ابن بشیر رضی اللّٰه عنہما في النُّحَل، جزء من رقم الحدیث ۳۴۴۶، ۲/۷۸۴۔ شیخ البانی نے اس کی [سند کو صحیح] کہا ہے۔ (ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۲/۷۸۴) ۔
[4] الإحسان في تقریب صحیح ابن حبان، کتاب الہبۃ ، جزء من رقم الحدیث ۵۰۹۹، ۱۱؍۴۹۸۔
[5] صحیح مسلم، جزء من رقم الروایۃ ۹۔ (۱۶۲۳) ، ۳/۱۲۴۱۔ ۱۲۴۲؛ وصحیح سنن النسائي، جزء من رقم الروایۃ ۳۴۳۵، ۲/۷۸۱۔