فهرس الكتاب

الصفحة 72 من 119

ا: صحیح مسلم میں ہے: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''فَلَا تُشْہِدْنِيْ إِذَا ، فَإِنِّيْ لَا أَشْہَدُ عَلٰی جَوْرٍ۔'' [1]

''پھر مجھے گواہ نہ بناؤ، کیونکہ بے شک میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا۔''

ب: صحیح مسلم میں ہی ہے: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''فَلَیْسَ یَصْلُحُ ھٰذَا، وَإِنِّيْ لَا أَشْہَدُ إِلَّا عَلٰی حَقٍّ۔'' [2]

''یہ درست نہیں اور یقینا میں حق کے علاوہ کسی اور بات پر گواہ نہیں بنتا۔''

ج: سنن النسائی میں ہے:

''أَ لَا سَوَّیْتَ بَیْنَہُمْ؟'' [3]

[تم نے ان کے درمیان مساوات کیوں نہیں کی''؟]

د: صحیح ابن حبان میں ہے: '' سَوِّ بَیْنَہُمْ'' [4]

''ان کے درمیان مساوات کرو''

ہ: صحیح مسلم اور سنن النسائی میں ہے: ' ' فَأَرْجِعْہُ'' [5]

''پس اسے کو واپس لے لو''

[2] صحیح مسلم، جزء من رقم الحدیث ۱۹۔ (۱۶۲۴) ، ۳/۱۲۴۴۔

[3] صحیح سنن النسائي، کتاب النُّحَل، باب ذکر اختلاف ألفاظ الناقلین لخبر النعمان ابن بشیر رضی اللّٰه عنہما في النُّحَل، جزء من رقم الحدیث ۳۴۴۶، ۲/۷۸۴۔ شیخ البانی نے اس کی [سند کو صحیح] کہا ہے۔ (ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۲/۷۸۴) ۔

[4] الإحسان في تقریب صحیح ابن حبان، کتاب الہبۃ ، جزء من رقم الحدیث ۵۰۹۹، ۱۱؍۴۹۸۔

[5] صحیح مسلم، جزء من رقم الروایۃ ۹۔ (۱۶۲۳) ، ۳/۱۲۴۱۔ ۱۲۴۲؛ وصحیح سنن النسائي، جزء من رقم الروایۃ ۳۴۳۵، ۲/۷۸۱۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت